مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 37 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 37

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 37 رہی ہیں۔ہمیں تو بنارسی کپڑا پسند ہے یہ تھان بنارسی جو رکھے ہیں جس پر تم ہاتھ رکھ دو وہ اپنے پاس سے خود تم کو لے دوں گا۔“ مجھے باتوں سے پتہ تو لگ گیا تھا کہ میری شادی کے لئے حضرت اماں جان کپڑے پسند کر رہی ہیں ، اتنی شرم آئی کہ بول ہی نہ سکی آج تک پچھتاتی ہوں وہ تو خاص تبرک اور تحفہ ہوتا ، آپ علیہ السلام کی پسند دیکھ کر حضرت اماں جان نے بنارسی بھی لیا ہو گا مگر وہ خاص آپ علیہ السلام کا کہنا اور الگ لینا وہ بات کہاں۔آپ علیہ اسلام کی وفات سے دو چار ہی دن پہلے کسی صاحب نے موٹر لا کر کھڑی کی کہ اس پر نئی سواری ہے آپ سیر فرما ئیں۔آپ علیہ السلام نہیں گئے ہم لوگوں یعنی بچوں کو اور بھا بھی جان وغیرہ کو بھجوا دیا تھا۔اس جدائی کی شب آپ علیہ السلام نے عشاء یا غالباً عشاء مغرب جمع تھی گھر میں ہی با جماعت ادا کی تھی ، وہ آخری نماز تھی جو میں نے آپ علیہ السلام کے پیچھے آپ علیہ السلام کے قریب پڑھی میں پہلے بھی بیان کر چکی ہوں کہ میرا پلنگ آپ علیہ السلام کے قریب ہوتا تھا کمرے میں اتنا قریب کہ صرف گزرنے کو جگہ ہوتی ، لاہور میں صحن میں بھی اُسی طرح قریب تھا۔میری آنکھ کھلی ، آپ علیہ اسلام کور رفع حاجت کے لئے جاتے دیکھا۔آپ آ کر لیٹ گئے پھر آنکھ کھلی تو حضرت اماں جان کی سخت کرب میں