مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 11 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 11

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 11 میں خفاسی ہو کر دوسرے کمرے میں جا کر لیٹ رہی اور سو گئی وہ کمرہ تھا جو ہمارے قادیان والے گھر کے صحن میں داخل ہو کر بائیں ہاتھ ایک برآمدہ اور پیچھے کمرہ ہے۔اس کے ساتھ ہی گول کمرہ ہے۔مگر آپ کو کیا سمجھ میں آئے گا سوتے سوتے میری آنکھ کھلی تو آپ مجھے دونوں ہاتھوں پر اٹھائے لئے جا رہے تھے۔جا کر مجھے گود سے اتار کر بھرے ہوئے لیچیوں کے ٹوکرے کے پاس بٹھا کر کہا لوکھا ؤ اور حضرت اماں جان سے فرمایا کہ ”دیکھو چیز یہ مانگتی ہے اللہ تعالیٰ بھیج دیتا ہے۔(7) میں بڑی خوشی سے آپ علیہ السلام کود با یا بھی کرتی تھی۔ایک بار آپ بہت تھکان محسوس کر رہے تھے فرمایا ”میری سوئی پکڑ کر میری رانوں پر کھڑی ہو کر دیا ؤ۔" میں کھڑی ہو گئی تو آپ علیہ اسلام نے میرے پاؤں اپنے ہاتھ سے پکڑ کر درست کئے کہ جب کھڑے ہو کر اس طرح دباتے ہیں تو پاؤں ٹیڑھے رکھتے ہیں۔یعنی ایک پنجہ ادھر ایک ادھر اس سے ایڑھی کا دباؤ تکلیف نہیں دیتا۔دوسروں کی خدمت سے بھی آپ علیہ السلام خوش ہوتے۔ایک ضعیفہ مائی تا بی نام ہمارے گھر میں رہا کرتی تھیں۔دائمی سردرد کی مریضہ تھیں، آپ علیہ اسلام ان کا بہت خیال رکھتے۔دوائیں بھی دیتے اور بادام کا شیرہ ان کو چلواتے۔میں مائی نالی کا شیرہ رگڑ کر اکثر اس کو پلاتی تو بہت دعائیں