مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 10
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 10 حالانکہ حضرت اماں جان چھوٹے بھائی صاحب کو لے کر اس رات ان کی دلداری کے لئے خود بھی بیت الدعا میں زمین پر ان کو ساتھ لے کر سوئیں مگر میرا بستر وہیں رہا۔لیکن مجھے یاد ہے کہ اس بات پر پھر میرا دل بھی دکھا تھا اور ندامت محسوس ہوئی۔(5) میں پیسے مانگتی تو جو پہلی بار ہاتھ میں آجاتا پکڑا دیتے جو اکثر میری طلب سے زیادہ ہوتا تھا آپ علیہ السلام فرماتے کہ تمہاری قسمت ہے تھوڑا مانگتی ہو بہت ہاتھ میں آجاتا ہے۔اب یہی لو میں واپس کیوں رکھوں۔“ ایک بار میں نے دو آ نے مانگے روپیہ نکالا اور فرمایا' ماتھے دو آنے نکل آیا روپیہ یہ تو تمہاری قسمت ہے۔“ میں بالکل چھوٹی تھی ، گرمیوں کی دوپہر میں ہم سب نیچے کے کمروں میں رہا کرتے تھے۔بلکہ سردی کی راتیں بھی مجھے ان کمروں میں سونا یاد ہے پھر پلیگ جب ملک میں پھیلی تو آپ نے نیچے کی رہائش ترک کر دی تھی۔میں نے کہا مجھے لیچیاں دیں مگر قادیان میں ہر چیز کہاں ملتی اور نہ ابھی تک کہیں باہر سے آئی تھی۔حضرت اماں جان نے فرمایا کہ " اس کی باتیں تو دیکھیں بے وقت لیجیوں کی فرمائش اب کر رہی ہے۔"