مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 12 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 12

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 12 دیا کرتی تھی اور مجھے احساس تھا کہ آپ علیہ السلام بھی میرے اس کام سے خوش ہوں گے۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم آپ مایہ اسلام کے محبوب رفیق تھے ان کی وفات کے بعد ان کی بیوی کا جن کو سب مولویانی کہتے تھے آپ علیہ السلام نے بہت خیال رکھا۔ان کی بہت دلداری فرماتے وہ مجھے بہت چاہتی تھیں، میں ان سے بہت مانوس تھی۔آپ علیہ السلام کبھی فرماتے کہ " تم نے مولویانی کو بھی لتاڑ ا ؟ وہ بھی ٹانگوں پر کھڑا کر کے دبواتی تھیں اور اس کو لتاڑ نا کہا کرتی تھیں آپ علیہ السلام کے کہنے پر بڑی خوشی سے مولویانی کو خوب لتاڑ ا کرتی ، وہ میرا ہاتھ پکڑے رکھتیں کہ گر نہ جائے۔(8) ایک بار میں چھوٹی ہی تھی ابھی ) جگا کر نماز تہجد پڑھوادی۔ذرا دیر میں پھر جھنجھوڑنے لگیں کہ اٹھو نماز پڑھو۔میں نے چلا کر آپ کو پکارا کہ:۔میں نماز پڑھ چکی ہوں یہ مجھے جگائی جاتی ہیں۔“ دو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بچوں کو تنگ کر کے نماز نہ پڑھواؤ۔انہوں نے کہا ”حضرت وہ تو میں نے تہجد پڑھوائی تھی۔‘ فر مایا:۔ا بھی سونے دو اس کی نماز ہوگئی ہے۔" اسی طرح قبل بلوغت کم عمری میں آپ روزہ رکھوانا پسند نہ فرماتے تھے۔بس ایک آدھ رکھ لیا کافی ہے۔حضرت اماں جان نے میرا پہلا