محسنات

by Other Authors

Page 66 of 286

محسنات — Page 66

66 ”جب جماعت احمدیہ کا انتظام میرے ہاتھ میں آیا اس وقت قادیان میں عورتوں کا صرف پرائمری اسکول تھا لیکن میں نے بیویوں اور بیٹیوں کو قرآن کریم اور عربی کی تعلیم دی اور انہیں تحریک کی کہ مقامی عورتوں کو قرآن کریم کا ترجمہ اور حدیث پڑھائیں۔۔۔میں نے یہ انتظام کیا کہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر وہ اُستادوں سے تعلیم حاصل کریں۔اس پر قادیان میں بھی اور باہر بھی اعتراض ہوئے لیکن میں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی کیونکہ یہ ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ضرورت کے موقعہ پر مرد و عورت ایک دوسرے سے پڑھتے پڑھاتے رہے ہیں۔حضرت عائشہ صحابیوں اور نومسلموں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیبات سکھاتی رہی ہیں۔پس میں نے اس سلسلہ کو جاری رکھا یہاں تک کہ پچھلے سال عورتوں کی کافی تعداد نے مولوی کا امتحان پاس کیا۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے پرائمری اسکول مڈل تک پہنچادیا۔اور اس سال سے یعنی 1921ء میں قادیان میں عورتوں کا کالج بھی جاری ہو چکا ہے۔اور میرا منشاء یہ ہے کہ کم از کم پندرہ یا سولہ عورتوں کو بی اے یا ایم اے تک تعلیم دلائی جائے تا کہ عورتیں خود دوسری عورتوں کو تعلیم دے سکیں۔اور جب قادیان میں عورتیں ہی تعلیم دینے کے لئے تیار ہو جائیں تو میرا ارادہ ہے کہ وہاں ہوٹل قائم کر کے باہر کی عورتوں کے لئے بھی وہاں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا انتظام کر دیا جائے گا۔یہ امر کس قدر افسوسناک ہے کہ سارے پنجاب میں مسلمانوں کا ایک بھی زنانہ کا لج نہیں اور قادیان کا کالج پہلا زنانہ کالج ہے۔اور خدا کے فضل سے وہاں عورتوں کی تعلیم اس قدر زیادہ ہے کہ چند ماہ ہوئے میں علی گڑھ گیا تو مجھے بتایا گیا کہ صرف چارلڑکیوں نے انٹرنس کا امتحان دیا ہے لیکن قادیان میں پہلے ہی سال سولہ (16) لڑکیوں نے امتحان دیا اور ہم نے اندازہ کیا کہ قادیان میں سو فیصدی لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں یا ان کی شرح لڑکوں