محسنات

by Other Authors

Page 67 of 286

محسنات — Page 67

67 سے بھی زیادہ ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ ہماری جماعت کی عورتوں میں تعلیم اس سرعت سے پھیل رہی ہے خصوصاً قادیان میں کہ انشاء اللہ بہت جلد ہم عورتوں کی جہالت سے بچ جائیں گے۔‘“ (مصباح 15 /اکتوبر 1921 صفحه 4-5) اس اقتباس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ احمدی عورتوں میں خصوصاً قادیان کی مستورات میں ہندوستان کی دیگر عورتوں کے مقابلے میں بہت پہلے تعلیم کا ذوق و شوق پیدا ہوا۔اس طرح پر دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کی طرف بھی خلیفہ وقت کی نگرانی میں قادیان کی عورتوں نے بھر پور توجہ دی۔دینی تعلیم حاصل کرنے اور قرآن وحدیث کی تعلیمات پر عبور حاصل کرنے کے لئے احمدی عورتوں نے عربی زبان سیکھنے کے لئے ذوق وشوق سے قدم آگے بڑھایا۔چنانچہ 1921ء میں قادیان کی سات خواتین نے مولوی کا امتحان پاس کیا۔یہ جذبہ صرف قادیان کی عورتوں تک ہی محدود نہ رہا بلکہ باہر کی احمدی خواتین میں بھی ذہنی بیداری پیدا ہوگئی۔نہ صرف قرب و جوار کی عورتیں قادیان میں آ کر اس علمی ماحول سے مستفید ہونے لگیں بلکہ دور دراز کے علاقوں کی احمدی خواتین نے بھی بہت ہمت کا ثبوت دیا اور قادیان پہنچ کر قرآن وحدیث کی تعلیم کی دولت سے مالا مال ہوئیں۔مثلاً امتہ اللہ کنیزہ بیگم صاحبہ حیدر آباد دکن کی لجنہ کی رپورٹ میں اپنی خواہش کا اظہار یوں کرتی ہیں۔وه نیز عاجزہ کا مدت سے یہ خیال تھا۔کہ مرکز مقدس میں حاضر ہو کر دینی تعلیم کی تعمیل کرے۔چنانچہ حضور کے ارشاد کی روشنی میں اپنی اور بہنوں کو بھی راقمہ نے خصوصیت کے ساتھ تحریک کی۔جس پر سر دست سات بہنوں نے پختہ وعدہ کر لیا ہے کہ میرے ساتھ چلیں گی۔(مصباح 15 جولائی 1920 صفحہ 16) حضرت سیّدہ امتہ الحمی ( بنت حضرت خلیفہ امسیح الاوّل ) حرم حضرت