محسنات

by Other Authors

Page 65 of 286

محسنات — Page 65

65 احمدی خواتین کی دینی تعلیم وتربیت اُنیسویں صدی کے اختتام پر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوئی مسیحیت فرمایا، برصغیر ہندوستان میں جہالت کا دور دورہ تھا۔عورتیں تو در کنار مرد بھی تعلیم کی اہمیت سے واقف نہ تھے۔پڑھناوقت ضائع کرنے کے مترادف تھا۔گنتی کے لوگ بڑے شہروں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔اور ان تعلیم کے شیدائیوں میں مسلمان تو برائے نام ہی تھے اعلیٰ خاندان کے متمول لوگ اپنے لڑکوں کو اُستاد مقرر کر کے گھر میں تعلیم دلوانے کا انتظام کر لیتے تھے۔جبکہ عورتوں کی تعلیم کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر تھی۔برطانوی سی کے بعد ہندوستان میں جگہ جگہ تعلیمی اداروں کا قیام ہو گیا تھا۔لیکن مسلم خواتین کو اسکول میں بھجوانا ناممکن تھا اس لئے کہ عورتوں پر پردے کی سخت پابندی تھی اُس کا گھر سے برقعہ یا چادر اوڑھ کر نکلنا بھی ایک جرم تھا۔با العموم گھر کے دروازے پر ڈولی آتی ڈیوڑھی سے ڈولی تک دائیں بائیں چادر میں تان کر عورت کو ڈولی میں داخل ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا اور پھر جہاں پر جانا ہوتا وہاں بھی چادر میں تان کر اس کو ڈولی سے باہر نکالا جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کے بعد آپ کی بیعت کرنے سے جماعت احمدیہ کے مرد و زن میں قرآن مجید، احادیث اور دینی علوم حاصل کرنے کی طرف رجحان پیدا ہوا جو روز بروز ترقی پذیر ہوتا چلا گیا۔گویا قادیان کا ماحول علم و عرفان کی روشنی سے منور ہونا شروع ہو گیا۔تعلیم و تربیت کرنے والے ماڈل میسر آگئے۔جماعت میں تعلیم و تربیت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا : -