محسنات

by Other Authors

Page 247 of 286

محسنات — Page 247

247 گھریلو کام مثلاً سینا پرونا کھانا پکانا خود سکھایا۔سفر پر تشریف لے جاتیں تو ساتھ شادی کا وقت آتا تو جہیز میں ہرقسم کی ضروریات زندگی موجود ہوتیں۔عید پر عیدیاں جاتیں۔پیار ومحبت و شفقت کا یہ سلسلہ اگلی نسل تک چلتا۔حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں:۔کہ جن لڑکیوں کو بھی حضرت اماں جان نے پالا ان کی جوئیں نکالنا، کنگھی کرنا یہ کام اکثر آپ خود ہی کرتیں۔اور باوجود نہایت صفائی پسند ہونے کے گھن نہیں کھاتی تھیں۔ایک مرتبہ ایک گاؤں کی سیر کے لئے تشریف لے گئیں وہاں گندے کپڑوں اور برے حال میں ایک یتیم لڑکی دیکھی تو اُسے گھر لے آئیں۔نہلا دھلا کر کپڑے پہنائے اور شفقت کا یہ سلسلہ شادی تک رہا۔غرض آپ کے سایہ عاطفت میں کوئی نہ کوئی لڑکا یا لڑکی بچوں کی طرح رہا اور آپ ان کی بہت خدمت کرتیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ حضرت اماں جان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت سے انشاء اللہ ضرور حصہ پائیں گی۔یعنی قیامت کے دن ”میں اور یتیموں کی پرورش کرنے والا اس طرح اکھٹے ہوں گے جس طرح ایک ہاتھ کی دو انگلیاں باہم پیوست ہوتی ہیں۔“ ایک مرتبہ آپ پٹیالہ تشریف لے گئیں تو آپ نے وہاں بھی قیدیوں سے حسنِ سلوک کا موقع تلاش کر لیا اور ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کے ذریعے قیدیوں کو عمدہ قسم کا کھانا کھلایا۔(خلاصہ ہر اول دستہ 28-25) آپ کے اکرام ضیف کے متعلق عرفانی صاحب کا نوٹ بہت دلچسپ ہے:۔