محسنات

by Other Authors

Page 248 of 286

محسنات — Page 248

248 ”میری آنکھ نے ایک حیرت افزاء چیز دیکھی جو کانوں کے ذریعہ پیش ہوئی تھی۔حضرت (اماں جان) بنفس نفیس لنگر خانہ میں تشریف لے جاتی ہیں اور وہاں کے انتظامات دیکھتی ہیں اور اپنی تسلی کرتی ہیں پھر اپنے ذاتی اخراجات سے ایک پلاؤ کی دیگ مہمان خواتین کے لئے تیار کراتی ہیں۔سوال پلاؤ کی ایک دیگ کا نہیں بلکہ اکرام ضیف کے اُس وصف کا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زوجیت کے ساتھ آپ کو ملا۔مہمانوں کی خاطر تواضع کے متعلق حضرت اماں جان کی سیرت کا باب بہت وسیع ہے۔اور اس کی شاندار مثالیں بے شمار ہیں۔مگر اس عمر میں اور اس کثرتِ ہجوم میں آپ کی توجہ ایک خاص سبق دیتی ہے۔پھر یہی نہیں آپ اسٹیشن پر جاتی ہیں اور اپنی موٹر کو اُس وقت مہمان عورتوں کو پیش کر دیتی ہیں اور خو داسٹیشن پر کھڑی رہتی (الحکم 14 جنوری 1934 ، صفحہ 12) ہیں۔ایک مرتبہ حضرت اماں جان نے حضرت خلیفہ اول کو کہلا بھیجا کہ خرائے تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے میں چاہتی ہوں کہ آپ کا کوئی کام کروں حضرت خلیفہ ایح الاول نے ایک طالب علم کی پھٹی پرانی رضائی مرمت کے لئے بھجوادی۔حضرت اماں جان نے بشافت قلبی سے اس رضائی کی مرمت اپنے ہاتھ سے کی اور اسے درست کر کے واپس بھیجوا دیا۔مرمت شدہ رضائی طالب علم کو واپس کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔حضرت اماں جان فرماتی ہیں۔رضائی میں چیکٹ بہت تھی۔اپنے کپڑوں کو صاف رکھا کرو۔“ ( تاریخ لجنہ جلد دوم صفحہ 326) حضرت اماں جان جیسی عظیم المرتبت خاتون نے اس رضائی کی مرمت کر کے مندرجہ ذیل صفات حسنہ کا عملی ثبوت فراہم کیا جو ہمارے لئے ایک قابل تقلید مثال ہے:- اول : اطاعت اور خلافت کی عظمت۔دوم: رضائے باری تعالیٰ کے لئے