محسنات

by Other Authors

Page 246 of 286

محسنات — Page 246

246 کے لقب سے پکاری گئیں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک صحبت میں رہ کر آپ کی فطری خوبیوں نے جلاء پائی۔غرباء کی امداد حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ ) کا نمایاں خُلق تھا۔آپ اس کثرت سے غربا کی امداد کرتیں جس کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔جو بھی مصیبت زدہ آپ کے پاس آتا اپنی طاقت سے بڑھ کر اس کی مددفرماتیں۔کئی دفعہ ایسی خفیہ مددفرماتیں کہ کسی اور کو پتہ بھی نہ چلتا۔اگر اور کسی کو دعاؤں کے ذریعے مدد کی ضروت ہوتی تو دُعائیں کر کے اس کی مدد کرتیں۔ہر موسم کے شروع میں خاص کر موسم سرما کے شروع میں آپ بہت اہتمام سے گرم کپڑے، لحاف وغیرہ تیار کرواتیں اور غرباء میں تقسیم کرواتیں۔رمضان المبارک میں بہت زیادہ خیرات دیتی تھیں اور تین چار آدمیوں کا کھانا بطور فدیہ اپنے ہاتھ سے پکا کر دیتیں۔عید کے موقع پر بڑے اہتمام سے کپڑے تقسیم کرواتیں۔آپ غرباء کی ہمدردی بلالحاظ مذہب و فرقہ کرتیں۔آپ قرض مانگنے والوں کو فراخ دلی سے قرض دیتیں اور اگر کبھی اپنے پاس قرض کی گنجائش نہ ہوتی تو کسی اور سے کہہ کر اس کی ضرورت پوری فرمائیں۔آپ مزدور کو اس کی مزدوری زیادہ دیتیں تا کہ وہ خوش ہو جائے۔” آپ یتیم بچوں اور بچیوں کو اپنے گھر پر بلا کر کھانا کھلاتیں اور بعض اوقات اُن کو گھروں پر بھی کھانا بھجوا نہیں بہت سے یتیم آپ کے گھر میں بچوں کی طرح مقیم رہے۔آپ اپنے ہاتھ سے غرباء اور یتامیٰ کے کپڑے اور رضائیاں سیتیں ، انہیں مکان بنوا کر دیتیں۔آپ کے گھر میں پلنے والے یتیم بچوں کی عمریں بعض اوقات تین یا چار سال ہوتی۔آپ انہیں خود کلمہ نماز اور ابتدائی دینی تعلیم سکھاتیں۔ناظرہ قرآن مجید ختم کرنے پر آمین کی پر تکلف خوشی منائی جاتی اسکول میں داخل کرواتیں اور ان کی اردو کی غلطیوں کی اصلاح فرماتیں۔جب اردو ٹھیک ہو جاتی تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھوا کر سنتیں۔اُن کی اہمیت سمجھاتیں۔مسائل سمجھاتیں پھر لڑکیوں کو