محسنات — Page 217
217 ایک جرمن خاتون نے لکھا کہ میں نے جب احمدی خواتین کا جذبہ قربانی دیکھا تو میرے دل میں بھی ایک لگن لگ گئی ہے کہ میں بھی کچھ پیش کروں لیکن اتفاق سے اس وقت میرے پاس کوئی نقدی، کوئی چیز پیش کرنے کے لئے نہیں ہے۔اس لئے میں اپنا ایک پیارا بیٹا خدمت دین کے لئے پیش کرتی ہوں جس طرح چاہیں اُس سے کام لیں جو چاہیں اُس سے سلوک کریں میری طرف سے اب آپ کا ہو چکا ہے۔“ (مصباح جولائی 1993 صفحہ 12 تا 14) حضرت فضل عمر نے ( بیت ) جرمنی کی تحریک کے سلسلہ میں فرمایا کہ :- اُن دنوں قادیان کے لوگوں کا جوش وخروش دیکھنے کے قابل تھا اور اس کا وہی لوگ ٹھیک اندازہ کر سکتے ہیں جنہوں نے اس کو آنکھوں سے دیکھا مرد اور عورتیں اور بچے سب ایک خالص نشہ محبت میں چور نظر آتے تھے کئی عورتوں نے اپنے زیور اُتار دیئے اور بہتوں نے ایک دفعہ چندہ دے کر پھر دوبارہ جوش آنے پر اپنے بچوں کی طرف سے چندہ دینا شروع کر دیا۔چونکہ جوش کا یہ حال تھا اپنے وفات یافتہ رشتہ داروں کے نام سے چندہ دیا۔ایک غریب بچے نے جو ایک غریب اور محنتی باپ کا بیٹا تھا مجھے ساڑھے تیرہ روپے بھیجے کہ مجھے جو پیسے خرچ کے لئے ملتے تھے اُن کو میں جمع کرتا رہتا تھا وہ سب کے سب اس چندہ میں دیتا ہوں نہ معلوم کن کن اُمنگوں کے تحت اُس بچے نے وہ پیسے جمع کئے ہوں گے لیکن مذہبی جوش نے خدا کی راہ میں اُن پیسوں کے ساتھ اُن اُمنگوں کو بھی قربان کر دیا ( ناممکن ہے کہ اس بچے نے ایسی ماں کی گود میں پرورش پائی ہو جو دین کے لئے اپنا مال اور اپنے جذبات قربان نہ کرسکتی ہو۔(مصباح جولائی 1993 ء صفحہ 10) آپ میں سے ہر وہ خاتون جو کسی ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہے جن کے آباؤ اجداد نے ابتداء میں احمدیت قبول کی تھی وہ مڑ کر دیکھیں تو سہی، کہ اُس زمانے