محسنات

by Other Authors

Page 216 of 286

محسنات — Page 216

216 زیادہ بھاری ہے وہی مجھے سب سے پیارا ہے۔پس میں یہ ہار یورپین مشن کے لئے پیش کرتی ہوں۔پھر لکھتی ہیں کہ ( دین حق) کی ترقی اور عظمت ہی ہمارے گھر کا اصول رہا ہے اور اصل زینت کا باعث یہی ہے۔اس لئے مجھے ( دین حق ) کی یہی زینت سب سے زیادہ پیاری ہے۔ایک صاحب اپنی بیٹی کے متعلق لکھتے ہیں کہ میری بیٹی جس کی عمر پندرہ سال ہے اُس کے کانوں میں صرف دو بالیاں تھیں اور ناک میں ڈالنے والے دو کو کے تھے وہ بے قرار ہوگئی اور اُتار کر دے دیئے اور کہنے لگی ابا جان یہ میرے آقا کے حضور پیش۔کر دیں اور اس جذبے سے اُس نے کہا کہ باپ بھی انکار نہیں کرسکا۔بعض واقفین زندگی ایسے تھے جن کی خواتین کے پاس پیش کرنے کے لئے کچھ نہیں تھا تو انہوں نے اپنے بچے پیش کئے یہ جو وقف نو“ کی تحریک ہے یہ تو بعد میں چلی ہے۔بہت پہلے بعض عورتوں نے اس وجہ سے کہ ہمارے پاس کچھ دینے کے لئے نہیں ہے۔اپنے بچوں میں سے جو سب سے پیارا لگتا تھا وہی خدمت دین کے لئے پیش کر دیا تھا۔لندن کی ایک خاتون نے اپنے نکاح کی ایک نشانی رکھ کر باقی سب کچھ خدا کی راہ میں پیش کر دیا تھا۔لندن ہی سے ایک اور خاتون نے لکھا آج جب میں نے آپ کا خطبہ سنا تو میری نظر ایک دم میرے ہاتھ کی چوڑیوں اور باقی زیور پر پڑی میں نے گھر آکر اُتار دیں اور کہا عید سے پہلے یہ چیزیں میں دین کے لئے دے دوں اور عید پر کچھ نہ پہنوں حضور آپ یہ قبول فرماویں۔میرا خدا میرے لئے کافی ہے۔ایک واقف زندگی کی غریب بیٹی نے لکھا: سیدی! میرے پاس ایک انگوٹھی اور ایک کانٹے نیاز یورتھا میں نے کانٹے سلسلہ احمدیہ کو پیش کر دیئے ہیں۔حضور جہاں چاہیں خرچ کریں میں بہت غریب اور تنگ حال خادمہ ہوں مگر جب میرے باپ نے زندگی وقف کر دی تو میرا بھی تو حق تھا کہ میں کچھ قربانی پیش کرتی۔