محسنات — Page 218
218 میں کیا حالات تھے اور اب کیا بن چکے ہیں۔یہ سارے ان قربانیوں کے پھل ہی ہیں جو آپ کھا رہی ہیں اور آئندہ آپ کی نسلیں کھاتی چلی جائیں گی۔جو قربانیاں آج آپ پیش کر رہی ہیں اُن کی ایک جزاء تو خدا نے وہیں نقد دی کہ آپ کے دل کو سکنیت سے بھر دیا۔آپ کے گھروں کو برکتوں سے بھر دیا لیکن آئندہ نسلیں بھی اس کی خیرات پائیں گی اور یہ سلسلہ ایسا ہے جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے کاش دوسرے بھی دیکھیں اور سمجھیں کہ باقی رہنے والی لذتیں کیا ہوتی ہیں۔ان کا دُنیا کی عارضی لذتوں سے مقابلہ کرنا محض نادانی اور جہالت ہے۔دُنیا کی عارضی لذتیں تکلیفیں پیچھے چھوڑ جاتی ہیں ، دکھ چھوڑ جاتی ہیں بنے بنائے گھروں کو اُجاڑ دیتی ہیں مگر نیکی کرنے والے گھروں کو اللہ تعالیٰ برکتیں بخشتا ہے محبت اور پیار کے ماحول عطا کرتا ہے۔اولا دیں ماں باپ کی رہتی ہیں ماں باپ اولاد کے رہتے ہیں اور ایسے محبت کے باہمی رشتے گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں جو اس دنیا ہی میں ہر گھر کو ایک جنت نشان گھر بنا دیا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری ان قربانیوں کو نہ صرف قبول فرمائے بلکہ ان کو دوام بخشے اور جتنا اجر عطا کرے وہ سب کچھ پھر ہم خدا کے حضور پیش کرتے چلے جائیں کیونکہ یہ سلسلہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔چاہئے جو خدا دے وہ پھر ہم خدا کے حضور پیش کرتے رہیں۔(مصباح جولائی 1993 ء صفحہ 21،20)۔بوسنیا (BOSNIA) کے مسلمانوں پر اُن کے ہم وطن عیسائیوں نے ظلم و ستم کا جو بازار گرم کیا اُس کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔اُن کی جانیں ، گھر بار، عصمت بڑی بے دردی سے لوٹی گئیں۔اپنے گھروں سے نکلے ہوئے بچے کھچے لوگ کیمپوں میں نہایت کسمپرسی کی حالت میں پڑے تھے زخمی ، بیمار، بچے بوڑھے اور حاملہ خواتین زیادہ قابل رحم حالت میں تھے ایسے حالات میں حضور اقدس کی طرف سے احمدی رضا کاروں کے ذریعے اُن کے لئے روزمرہ زندگی کی اشیاء اور ادویات وافر