محسنات

by Other Authors

Page 191 of 286

محسنات — Page 191

191 1920ء میں جب احمدی مستورات کی تعدا د نہایت قلیل تھی اور مالی حالت بھی اکثریت کی کمزور تھی۔خلیفہ اسیح الثانی نے ( بیت ) برلن کی تحریک کی اور اسے خالصتاً احمدی خواتین کے چندہ سے تعمیر کروانے کی خواہش کا اظہار فرمایا۔چنانچہ نہایت قلیل عرصہ میں احمدی خواتین نے ایک لاکھ روپے کی گراں قدر رقم جمع کر کے اپنے امام کے قدموں میں ڈال دی۔چنانچہ ان قابل فخر قربانیوں کو حضرت امام جماعت خلیفہ اسی نے یوں خراج تحسین پیش کیا۔1920ء میں جماعت کی یہ حالت تھی کہ جب میں نے اعلان کیا کہ ہم برلن میں (بیت) بنائیں گے، اس کے لئے ایک لاکھ روپے کی ضرورت ہے تو جماعت کی عورتوں نے ایک ماہ کے اندر اندر یہ روپیہ اکھٹا کر دیا۔اُنہوں نے اپنے زیور اتار کر دے دیئے۔جہاں دوسرے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ مال خرچ کرنے کی وجہ سے ان میں لوگ مرتد ہو جاتے ہیں ہمیں وہاں ایک نیا تجربہ ہوا ہے میں نے اس ( بیت) کی تحریک کے لئے یہ شرط رکھی تھی کہ احمدی عورتوں کی طرف سے یہ ( بیت) ہوگی جو اُن کی طرف سے نومسلم بھائیوں کو بطور ہدیہ پیش کی جائے گی۔اب بجائے اس کے کہ وہ عورتیں جنہیں کمزور کہا جاتا ہے اس تحریک کو سن کر پیچھے بہتیں عجیب نظارہ نظر آیا اور وہ یہ کہ اس وقت تک گیارہ عورتیں داخلِ احمدیت ہو چکی ہیں تا کہ وہ بھی اس چندہ میں شامل ہو سکیں۔گویا اس تحریک نے گیارہ روحوں کو ہلاکت سے بچالیا۔اور یہ پہلا پھل ہے جو ہم نے اس تحریک سے چکھا۔“ خطبہ جمعہ مطبوعہ الازھار لذوات الخمار ) یہی جوش یہی ولولہ چشم فلک نے باقی دونوں ( بیوت) یعنی ہالینڈ اور لنڈن کے چندہ کی تحریک کے وقت دیکھا جب احمدی خواتین نے ایک دوسرے سے بڑھ کر مالی قربانی کی۔ایک غریب جماعت کے طبقہ نسواں کی مالی قربانیاں وقتی نہ تھیں بلکہ