محسنات

by Other Authors

Page 190 of 286

محسنات — Page 190

190 روزانہ کھانا کھلانے کی صورت میں، ہر قسم کی جنس و رسد کی صورت میں کپڑوں کی صورت میں بے حساب خیرات کرتیں۔اور اگر آپ حضرت اقدس کے ساتھ اس ماہ میں پہاڑ پر ہوتیں تو ہر قسم کی تفصیلی ہدایات کے ساتھ اُن کا خط آجا تا۔اس کے علاوہ الگ رقم بھجواتیں کہ میں بوجہ بیماری روزے نہیں رکھ سکتی۔فلاں کو یہ رقم پیش کر دیں اور وہ رقم جس قد رفد یہ ہونا چاہیے تھا اُس سے بڑھ کر ہوتی۔۔(تابعین ( رفقائے ) احمد جلد سوم صفحہ 216-217) سلسلہ کی خاطر وہ ادنیٰ سے ادنی کام کو اپنے ہاتھ سے کرنے کے لئے ہرگز حجاب محسوس نہ کرتیں۔چندہ جمع کرنے کے لئے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جلسہ میں یا اسی طرح کوئی ہنگامی فنکشن ہوتا تو آپ تھیلیاں اُٹھا کر خود مستورات سے چندہ اکھٹا کرتیں۔ہم لوگ کئی دفعہ یہ کہہ اُٹھتے کہ اور سب کام کریں گے لیکن چندہ کسی سے خود نہیں مانگتے شرم آتی ہے اور اکثر ہم اس طرح کرتے ہیں لیکن وہ اس قسم کی خدمت میں حجاب کے کوئی معنی نہیں بجھتی تھیں۔نتیجہ یہ ہوتا کہ لوگ دلی خوشی سے بڑھ بڑھ کر چندے دیتے اُن کے حسن اخلاق کا یہی کرشمہ تھا کہ لوگ اُن کے منہ کی نکلی ہوئی بات کو اس قدر اہمیت دیتے کہ ادھر آپ کوئی مطالبہ کرتیں اور اُدھر لوگ پورا کرنے میں اپنی سعادت سمجھتے۔" تابعین ( رفقائے ) احمد جلد سوم صفحہ 222) حضرت خلیفتہ امی الاول کے زمانہ کی اولین تحریک زنانہ دعوت الی الخیر فنڈ کے نام سے ہوئی جو دراصل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی پیش کردہ تحریک تھی۔اس فنڈ کی ابتداء بھی حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے چندہ سے ہوئی جو دوروپے تھا۔بعد ازاں دیگر بہت سی خواتین نے بھی اس میں حصہ لیا۔الفضل 7 جنوری 1914ء)