محسنات — Page 165
165 آگاہ کیا۔مگر پولیس تو ایسی چھپی کہ ڈھونڈ وتو اسکا نشان نہ ملے۔اسی طرح گوجرانوالہ میں جب حکیم نظام جان صاحب کے بچوں کے گھر کو آگ لگائی گئی تو تمام اہل خانہ نچلی منزل پر تھے۔یہ سب دوسری منزل پر چلے گئے۔جلوس نے یہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا اور دوسری منزل کو بھی آگ لگا دی۔باہر نکلنے کے تمام راستے بند تھے۔سڑک پر ہزاروں کا مجمع ہر طرح کے کیل کانٹوں سے لیس انکی بوٹیاں کرنے کو تیار کھڑا تھا۔جب یہ بچے اور عورتیں تیسری منزل پر پہنچے تو وہ بھی آگ کی لپیٹ میں آگئی۔سیٹرھیاں بھی جل گئیں۔اب نیچے اُترنے کے لئے کوئی راستہ نہ تھا اور آگ بڑی تیزی سے پھیل رہی تھی بچے سہم کر بڑوں سے چمٹے ہوئے تھے۔لیکن سبھی بے بس تھے اور دُعائیں کر رہے تھے۔نیچے گلی میں ہجوم اس انتظار میں تھا کہ کب ؟ لوگ جل جائیں۔یا چھلانگیں لگا ئیں تو ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔اس موقع پر سامنے کے گھر والوں نے ہمدردی کی اور لکڑی کا ایک تختہ اپنے گھر کی چھت سے اُس جلتے ہوئے گھر کی چھت تک رکھا۔یہ تختہ اتنا چوڑا بھی نہ تھا کہ ایک آدمی با آسانی اُس پر سے گذر سکے لیکن ایمان کی مضبوطی سے اُس خاندان کا ایک ایک بچہ اُس پر سے گزر گیا۔حضور نے بتایا۔مکرمہ سعیدہ افضل صاحبہ جو حضور کے عزیز دوست اور کلاس فیلو کرم محمد افضل صاحب کھوکھر ( قربان راہِ مولا ) کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں شہادت سے چند روز پہلے کی بات ہے کہ افضل عشاء کی نماز پڑھ کر آئے تو میں بستر پر بیٹھی رو رہی تھی۔دیکھ کر کہنے لگے سعیدہ کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا کہ کتاب ”روشن ستارے“ پڑھ رہی تھی اور میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتی اور میرا نام بھی کسی نہ