محسنات — Page 166
166 کسی رنگ میں کتاب میں آتا۔اس پر افضل صاحب کہنے لگے یہ آخرین کا زمانہ ہے۔اللہ کے حضور قربانیاں پیش کرو تو اولین میں شمار کی جاؤ گی۔31 مئی کی رات احمدیوں کے خلاف فسادات شروع ہو گئے۔ساری رات جاگ کر دُعائیں کرتے گزرگئی۔مجھے یہ وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ یہ آخری رات ہے۔یکم جون کو جلوس نے حملہ کر دیا۔ہم عورتوں کو افضل صاحب نے ہمسایہ کے گھر بھیج دیا اور خود باپ بیٹے گھر پر ٹھہر گئے۔سارا دن حملہ ہوتا رہا تو ڑ پھوڑ کی آوازیں آتی رہیں مگر ہمیں کچھ پتہ نہ تھا کہ باپ بیٹے کو ( قربان کر دیا گیا ہے اور ظالموں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔حضور نے بتایا کہ ظالموں نے پہلے بیٹے کو باپ کے سامنے (قربان) کیا اور اس درد ناک طریق پر ( قربان ) کیا کہ ایک غیر احمدی جو اُس مجمع میں شامل ہوا تھا وہ اس واقعہ کو دیکھ کر اپنے حواس کھو بیٹھا۔پھر رفتہ رفتہ اُسے ہوش آیا تو اُس نے بتایا کہ جب افضل سے کہا گیا کہ مرزا غلام احمد کو گالیاں دو تو انہوں نے کہا کہ کیا تم مجھے اپنے بیٹے سے بھی کمزور ایمان والا سمجھتے ہو جس نے میرے سامنے اس بہادری سے جان دی ہے جب آخری وقت سسکتے ہوئے وہ پانی مانگ رہا تھا تو گھر پر جو عمارت کے لئے ریت پڑی تھی وہ اُس کے منہ میں ڈالی گئی۔افضل صاحب نے کہا تم جو چاہو کر لو میں اپنے ایمان میں متزلزل نہیں ہوں گا۔اس پر انہیں اور بھی دردناک طریق پر ( قربان ) کیا گیا پھر انہیں ننگا کر کے ان کی نعشیں تیسری منزل سے نیچے پھینک دی گئیں۔یہ وہ بر بریت ہے جسکو بد بخت لوگ حضرت اقدس محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اس سے بڑی بے حیائی ( دینِ حق ) کے نام پر شاید کبھی نہ کی گی ہو۔۔۔محترمہ صفیہ صدیقہ صاحبہ اہلیہ چوہدری منظور احمد صاحب