محسنات — Page 164
164 صاحب کے گھر پہنچیں تو دیکھا کہ دیگر احمدیوں کی لڑکیاں اور عورتیں بھی وہاں موجود تھیں۔ہم چھت پر بیٹھ کر ایمان کی سلامتی اور احمدیت کی ترقی کی دعائیں کرتی رہیں۔یکم جون کو تقریباً صبح کے پونے چار بجے پانچ رائفل بردار امینی صاحب کے گھر کی چھت پر آگئے جنہیں دیکھتے ہی مرد اور عورتیں چوبارہ کے کمروں میں چلے گئے۔کمرے صرف دو تھے ایک میں مرد اور دوسرے میں عورتیں جمع ہو گئیں۔حملہ آور سر پر آپہنچے اور اُن کی رائفلیں شعلے برسانے لگیں۔آہ وفغاں کا شور بلند ہوا۔گولیاں چلتی رہیں۔دروازے ٹوٹنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ہم اپنے کمزور ہاتھوں سے دروازوں کو تھامتے رہے۔اُس وقت ہماری حالت یہ تھی کہ ہم نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم اس دُنیا کو دوبارہ دیکھ سکیں گے یا نہیں؟ ہاتھ پاؤں میں خوف سے رعشہ طاری تھا اور ایسی کیفیت تھی جسے بیان کرنے کا حوصلہ نہیں۔اچانک مردوں کی جانب سے دروازہ ٹوٹا جہاں محمود صاحب اور اُن کے نوجوان بھانجے اشرف صاحب تھے۔چند لمحوں کے بعد اُن کی دلدوز چیخوں کی آواز کانوں کے پردے پھاڑتی ہوئی آئی ماموں بھانجا خاک و خون میں تڑپ رہے تھے ایسا منظر کہ جسے دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا۔محمود صاحب کی ٹانگ سے خون کے فوارے بہہ رہے تھے انکی اہلیہ چھت پھلانگ کر اپنے غیر از جماعت عزیزوں کے ہاں گئیں اور کہا کہ ہمارے گھر میں گولیاں برسائی جارہی ہیں۔میرا میاں اور ان کا بھانجا زخمی حالت میں تڑپ رہے ہیں آپ ہی کچھ مدد کریں۔مگر ان کا جواب یہ تھا کہ تمہارے ساتھ ہم اپنی جانیں کیوں گنوائیں۔حملہ آور تو چلے گئے مگر زخمیوں کی چیخوں سے آسمان تھرارہا تھا۔اُن کی یہ حالت دیکھ کر ضبط کی تمام ملیں چکنا چور ہوگئیں۔ہم نے باہر آکر ان کے منہ میں پانی ڈالا اور پولیس سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور اُن کو صورت حال سے