محسنات — Page 110
110 قیامت خیز حالات کے باوجود اماں کا جوش ایمانی اور غیرت دینی مجبور کرتی رہی کہ قادیان کے حفاظتی اقدامات کے لئے نہرو کو کہیں۔گھر میں سب نے منع کیا لیکن اماں نے کہا میرا اثر ورسوخ اور اخبار کس کام کا اگر میں قادیان کے لئے کچھ نہ کر سکوں موت نے ایک ہی دفعہ آنا ہے۔اچھا ہے اگر دین کی خدمت کرتے ہوئے مروں۔اماں نتائج کی پروا کئے بغیر بھائی سید مبشرات کو لیکر سبز نقاب میں گھر سے نکل پڑیں۔بمشکل ایک تانگہ ملا۔پہلے تو وہ سبز نقاب کے ساتھ بٹھانے کو تیار نہ تھا۔بہت کہنے سننے پر 50 روپے میں بٹھایا لیکن برابر کہتا رہاما تاجی برقع اُتار دو ور نہ چن سنکھی غنڈے آپ کو بھی ماردیں گے اور مجھے بھی مار دیں گے۔اماں نے کہا تم ایشور کو مانتے ہو پرارتھنا کرتے رہو۔میں اپنے ایشور سے پرارتھنا ( دُعا) کرتی جاؤں گی۔دیکھ لینا نہ تم کو کچھ ہوگا نہ ہم کو۔اماں کہتی ہیں سورۃ فاتحہ، تینوں قل، آیت الکرسی، دَرُود شریف اور رَبِّ كُلُّ شَيْ خَادِمُكَ پڑھتی ، گریہ سے دعا ئیں کرتی مردانہ وار چلی گئی اور مجھے ذرا بھی ڈر نہیں لگا۔خدا تعالیٰ نے نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ کا وعدہ اپنے پیارے مسیح موعود علیہ السلام سے کیا تھا۔میں بھی اُسی مسیح کی ایک ادنی گنیز تھی۔مجھے بھی اس سے حصہ دیا گیا۔حالانکہ جگہ جگہ خون پھیلا ہوا تھا۔انسانی اعضاء بکھرے پڑے تھے۔بنگی تلواریں لہرا رہی تھیں آگے چلے تو چاروں طرف آگیں بھڑکتی نظر آئیں اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ” آگ تمہاری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔کی برکت سے حصہ لینے کی دعائیں کرتی چلی جارہی تھی۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جگہ جگہ غنڈے تانگہ روکتے ، مارنے کے لئے نہیں بلکہ کہتے ما تاجی برقع اتار دو، ماری جاؤ گی اور معجزانہ بات یہ کہ تانگے والا اور اُس کا گھوڑا تک جیسے مذکورہ بالا الہامات کے حصار میں آگئے ہوں آخر میں پنڈت نہرو کی کوٹھی پر پہنچی، پیغام بھیجا کہ بیگم شفیع آئی ہیں ملنا ہے۔ڈیوٹی آفیسر نے پس و پیش کی جب ذرا دیر لگائی