محسنات — Page 111
111 تو میں نے گرجدار آواز میں کہا۔اطلاع کرتے ہو، کہ میں خود دروازہ کھول کر اندر جاؤں۔پنڈت نہرو نے جو اتفاق سے وہاں سے گزر کر دوسرے کمرے میں جار ہے تھے سن لیا اور کہا بیگم صاحبہ کو آنے دو۔میں نے چھوٹتے ہی پنڈت نہرو سے کہا ”آگ اور خون کا دریا چاروں طرف سے مسلمانوں کو ختم کر رہا ہے۔قادیان خطرات میں گھرا ہوا ہے۔فسادی بلوائی قادیان میں گھومتے پھر رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں قادیان میں بالکل امن ہے۔ہمارے خلیفہ نے آپ کے لئے پیغام بھیجا ہے۔جیسا امن آپ کو قادیان میں نظر آتا ہے۔ایسا امن آپ کے یہاں بھی ہو۔پنڈت نہرو نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں کہ فوراً حفاظت کے لئے فوج بھیجتا ہوں اور بات کو ٹالنے کے لئے کہا کہ اگر آپ کے گھر اور عزیزوں کو خطرہ ہے تو آپ لوگوں کے لئے نئی دہلی میں انتظام کرا دیتا ہوں۔میں نے کہا ” میرے عزیز تمام مسلمان ہیں اور میں یہ کہتی با ہر نکل آئی کہ آپ کی فوج قادیان کی کیا حفاظت کرے گی۔خدا تعالیٰ خود اس کی حفاظت کرے۔۔۔اماں مرحومہ واپس بھائی کے ساتھ ان ہی بربریت کے نظاروں کو دیکھتیں بخیریت تانگے میں گھر واپس پہنچ گئیں وہ اس واقعہ کو ہمیشہ ایک عجیب ایمانی جرات وکیفیت اور روحانی سرور کے ساتھ بیان کرتی تھیں کہ میں جب بھی اس آگ اور خون کے دریا کا تصور کرتی ہوں تو مولیٰ کریم کے قربان جاتی ہوں اور حیران ہوتی ہوں کہ ہم کیسے بیچ کر گئے اور کیسے واپس آئے؟ یہ سراسر خدا تعالیٰ کا فضل اور احمدیت کا ایک زبر دست نشان ہے۔“ گا۔- ( سواخ بیگم شفیع صفحه 77 تا 80 ) آگے چل کر مکر مہ بیگم شفیع کی بیٹی محترمہ نسیم سعید صاحبہ کہتی ہیں:- 1953ء میں جماعت کے خلاف پورے پاکستان میں ایک عوامی تحریک مولویوں نے چلائی ، جس کے نتیجے میں حکومت کی طرف سے ”الفضل‘‘اخبار کو بند