محسنات — Page 109
109 مغویہ خواتین اور مہاجرین خواتین جنگی بازیابی کے لئے ان مکرمہ نے خود جا جا کر کوشش کی ایسا خدمت خلق کا کام ہے جو ان کی بلندی درجات کا باعث بن جائے گا۔ہم اُن مصیبت زدہ دکھی اور اپنے خاندانوں سے بچھڑ جانے والی خواتین کی مشکلات کا اندازہ نہیں کر سکتے۔لہذا ایسے پر آشوب دور میں خواتین کی بازیابی بلاشبہ ایک قابل تعریف کارنامہ ہے۔14 راگست 1947ء کو پاکستان کی آزادی اور 15 راگست کو ہندوستان کی آزادی کا اعلان ہوا تو بھارت میں مسلمانوں کے قتل وخون کا بازار گرم ہوا۔پنڈت نہرو اخبار والوں کو یقین دلاتے کہ امن کی صورتحال بہتر ہے اور ہم نے فوج کو حفاظت کے لئے جگہ جگہ بھیج دیا ہے۔قادیان سے بھی خطرے کی اطلاعات مل رہی تھیں۔۔سیدہ نیم سعید صاحبہ نے اپنی کتاب میں اپنی والدہ بیگم محمد شفیع صاحبہ کے بارے میں لکھا ہے :- پریس کانفرنس میں اماں نے پنڈت نہرو سے سوال کیا کہ آپ مسلمانوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کا کیا انتظام کر رہے ہیں؟ پنڈت نہرو نے جواب دیا ان کی حفاظت کے احکام میں پہلے ہی صادر کر چکا ہوں۔اماں نے کہا کہ قادیان میں تو بہت خطرہ ہے۔نہرو نے جواب دیا نہیں وہاں پوری طرح امن وامان ہے۔اماں نے قادیان فون پر بات کی۔حضرت مصلح موعود نے فرمایا نہرو سے کہو جیسا امن قادیان میں ہے ایسا ہی امن تمہارے گھر میں ہو“۔والدہ بڑے جوش ایمانی سے نہرو سے لڑنے چلیں کہ کیوں جھوٹ بولا اور فوراً قادیان کی حفاظت کا انتظام کرے۔اماں لجنہ دہلی کی نائب صدر ہونے کے ساتھ شعبہ خواتین کے مسلم لیگ دہلی کے ایک بڑے حصے کی نائب صدر بھی تھیں اور مسلم لیگ کے نشان کے طور پر کالے لمبے کوٹ کے اوپر سبز نقاب لیتی تھیں۔48 گھنٹے کے کرفیو کے بعد دو گھنٹے کے لئے کرفیو کھلا۔