محسنات

by Other Authors

Page 102 of 286

محسنات — Page 102

102 ایسا اچھا نمونہ دکھاسکتی ہیں تو آسودہ حال اور پڑھی لکھی عورتیں کیوں ایسا نمونہ نہیں دکھا سکتیں؟ ایک جگہ رنگروٹ بھرتی کرنے کے لئے ہمارے آدمی گئے اُنہوں نے جلسہ کیا اور تحریک کی کہ پاکستانی فوج میں شامل ہونے کے لئے لوگ نام لکھوائیں۔مگر چاروں طرف خاموشی طاری رہی اور کوئی شخص اپنا نام لکھوانے کے لئے نہ اُٹھا تب ایک بیوہ عورت جس کا ایک ہی بیٹا تھا اور جو پڑھی ہوئی بھی نہیں تھی اُس نے جب دیکھا کہ بار بار احمدی مبلغ نے کھڑے ہو کر تحریک کی ہے کہ لوگ اپنے نام لکھوا ئیں مگر آگے نہیں بڑھتے تو وہ عورتوں کی جگہ سے کھڑی ہوئی اور اُس نے اپنے۔09 لڑکے کو آواز دے کر کہا۔او فلا نے تو بولتا کیوں نہیں؟ تو نے سنا نہیں کہ خلیفہ وقت کی طرف سے تمہیں جنگ کے لئے بلایا جارہا ہے۔“ اس پر وہ فوراً اُٹھا اور اُس نے اپنا نام جنگ پر جانے کے لئے پیش کر دیا۔تب اس کو دیکھ کر اور لوگوں کے دلوں میں بھی جوش پیدا ہوا اور انہوں نے بھی اپنے نام لکھوانے شروع کر دیئے۔اور جب یہ اطلاع میرے پاس پہنچی اور خط میں میں نے یہ واقعہ پڑھا تو پیشتر اس کے کہ میں اس خط کو بند کرتا۔میں نے خدائے تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کہا۔”اے میرے ربّ! یہ بیوہ عورت اپنے اکلوتے بیٹے کو تیرے دین کی خدمت کے لئے یا مسلمانوں کے ملک کی حفاظت کے لئے پیش کر رہی ہے۔اے میرے رب اس بیوہ عورت سے زیادہ قربانی کرنا میرا فرض ہے۔میں بھی تجھ کو تیرے جلال کا واسطہ دیکر تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ اگر انسانی قربانی کی ہی ضرورت ہو تو اے میرے ربّ اُس کا بیٹا نہیں بلکہ میرا بیٹا مارا جائے۔“ تاریخ لجنہ جلد دوم صفحہ 113 تا114)