محسنات

by Other Authors

Page 101 of 286

محسنات — Page 101

101 ” جب قادیان میں ہندوؤں اور سکھوں نے حملہ کیا تو شہر کے باہر ایک محلہ میں ایک جگہ پر عورتوں کو اکھٹا کیا گیا اور ان کی سردار بھی ایک عورت ہی بنائی گئی جو بھیرہ کی رہنے والی تھی۔( جن کا نام محتر مہ خدیجہ بیگم صاحبہ اہلیہ خان بہادر غلام محمد صاحب آف گلگت تھا ) اس عورت نے مردوں سے بھی زیادہ بہادری کا نمونہ دکھایا۔ان عورتوں کے متعلق یہ خبریں آئی تھیں کہ جب سکھ اور ہند وحملہ کرتے تو وہ عورتیں اُن دیواروں پر چڑھ جاتی جو حفاظت کی غرض سے بنائی گئی تھیں۔اور ان سکھوں اور ہندوؤں کو جو تلواروں اور بندوقوں سے اُن پر حملہ آور ہوتے تھے بھگا دیتی تھیں۔اور سب سے آگے وہ عورت ہوتی تھی جو بھیرہ کی رہنے والی تھی۔اور اُن کی سردار بنائی گئی تھی۔“ (الازھار لذوات الخمار صفحہ 171) پھر حضرت فضل عمر نے فرمایا :- ہم نے قادیان میں عورتوں کو بندوق چلانا سکھایا اور موجودہ فتنہ میں جب کئی گھروں میں سکھ داخل ہو گئے تو عورتیں اُن کا مقابلہ کرنے کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئیں تو وہ بھاگ گئے۔حق میں ایک طاقت ہوتی ہے اس وجہ سے ایک عورت نے دس دس پندرہ پندرہ سکھوں کو بھگا دیا اور ہماری قادیان کی عورتیں سو فیصد محفوظ رہیں۔(الازھار لذوات الخما رصفحہ 75) 16 اپریل 1949 ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مستورات کے جلسہ میں خطاب فرمایا۔آپ نے قرون اولیٰ کی خواتین کی قربانیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔وو لیکن میں بتاتا ہوں کہ تم میں سے بعض عورتیں ایسی ہیں جنہوں نے نہایت ہی اعلیٰ درجے کا نمونہ دکھایا ہے۔اگر وہ ان پڑھ جاہل اور غریب عورتیں