حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 522 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 522

۱۲۰۴ جب میں مضمون ختم کر چکا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ مضمون بالا رہا۔خلاصہ کلام یہ کہ جب وہ مضمون اس مجمع میں پڑھا گیا تو اس کے پڑھنے کے وقت سامعین کے لئے ایک عالم وجد تھا اور ہر ایک طرف سے تحسین کی آواز تھی یہاں تک کہ ایک ہندو صاحب جو صدرنشین اس مجمع کے تھے ان کے منہ سے بھی بے اختیار نکل گیا کہ یہ مضمون تمام مضامین سے بالا رہا۔اور سول اینڈ ملٹری گزٹ جو لاہور سے انگریزی میں ایک اخبار نکلتا ہے اس نے بھی شہادت کے طور پر شائع کیا کہ یہ مضمون بالا رہا اور شائد ہیں کے قریب ایسے اردو اخبار بھی ہوں گے جنہوں نے یہی شہادت دی۔اور اس مجمع میں بجز بعض متعصب لوگوں کے تمام زبانوں پر یہی تھا کہ یہی مضمون فتحیاب ہوا اور آج تک صد ہا آدمی ایسے موجود ہیں جو یہی گواہی دے رہے ہیں۔غرض ہر ایک فرقہ کی شہادت اور نیز انگریزی اخباروں کی شہادت سے میری پیشگوئی پوری ہوگئی کہ مضمون بالا رہا۔یہ مقابلہ اس مقابلہ کی مانند تھا جو موسیٰ نبی کو ساحروں کے ساتھ کرنا پڑا تھا۔کیونکہ اس مجمع میں مختلف خیالات کے آدمیوں نے اپنے اپنے مذہب کے متعلق تقریریں سنائی تھیں جن میں سے بعض عیسائی تھے اور بعض سناتن دھرم کے ہندو اور بعض آریہ سماج کے ہندو اور بعض بر ہمو اور بعض سکھ اور بعض ہمارے مخالف مسلمان تھے اور سب نے اپنی اپنی لاٹھیوں کے خیالی سانپ بنائے تھے لیکن جب کہ خدا نے میرے ہاتھ اسلامی راستی کا عصا ایک پاک اور پُر معارف تقریر کے پیرا یہ میں ان کے مقابل پر چھوڑا تو وہ اثر رہا بن کر سب کو نگل گیا۔اور آج تک قوم میں میری اس تقریر کا تعریف کے ساتھ چر چا ہے جو میرے منہ سے نکلی تھی۔فالحمد للہ علی ذالک۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۹۱-۲۹۲) عبد اللہ آتھم منجملہ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان نشانوں کے وہ نشان ہے جو اس خدائے قادر نے ڈپٹی عبداللہ آتھم عیسائی کی نسبت ظاہر فرمایا اور اس کے لئے یہ تقریب پیش آئی کہ مئی اور جون ۱۸۹۳ء میں ڈاکٹر مارٹن کلارک کی تحریک سے اسلام اور عیسائیت میں ایک مباحثہ قرار پایا۔اس مباحثہ میں عیسائیوں کی طرف سے ڈپٹی عبداللہ آ نقم انتخاب کیا گیا اور مسلمانوں کی طرف سے میں پیش ہوا اور عبداللہ آتھم نے مباحثہ سے کچھ دن پہلے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت دجال کا لفظ