حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 521 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 521

اول سے آخر تک سنیں شرمندہ ہو جائیں گی اور ہرگز قادر نہیں ہوں گے کہ اپنی کتابوں کے یہ کمال دکھلا سکیں۔خواہ وہ عیسائی ہوں، خواہ آریہ، خواہ سناتن دھرم والے یا کوئی اور۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اس روز اُس کی پاک کتاب کا جلوہ ظاہر ہو۔میں نے عالم کشف میں اس کے متعلق دیکھا کہ میرے محل پر غیب سے ایک ہاتھ مارا گیا اور اس ہاتھ کے چھونے سے اس محل میں سے ایک نور ساطعہ نکلا جو اردگرد پھیل گیا۔اور میرے ہاتھوں پر بھی اس کی روشنی پڑی۔تب ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا وہ بلند آواز سے بولا۔اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ۔اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس محل سے میرا دل مراد ہے جو جائے نزول وحلول انوار ہے اور وہ نور قرآنی معارف ہیں اور خیبر سے مراد تمام خراب مذہب ہیں جن میں شرک اور باطل کی ملونی ہے اور انسان کو خدا کی جگہ دی گئی یا خدا کی صفات کو اپنے کامل محل سے نیچے گرا دیا ہے۔سو مجھے جتلایا گیا کہ اس مضمون کے خوب پھیلنے کے بعد جھوٹے مذہبوں کا جھوٹھ کھل جائے گا اور قرآنی سچائی دن بدن زمین پر پھیلتی جائے گی جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کرے۔پھر میں اس کشفی حالت سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے یہ الہام ہوا۔اِنّ اللهَ مَعَكَ۔إِنَّ اللهَ يَقُومُ أَيْنَمَا قُمْتَ۔یعنی خدا تیرے ساتھ ہے۔خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہو۔یہ حمایت الہی کے لئے ایک استعارہ ہے۔اب میں زیادہ لکھنا نہیں چاہتا۔ہر ایک کو یہی اطلاع دیتا ہوں کہ اپنا اپنا حرج بھی کر کے ان معارف کے سننے کے لئے ضرور بمقام لاہور تاریخ جلسہ پر آویں کہ ان کی عقل اور ایمان کو اس سے وہ فائدے حاصل ہوں گے کہ وہ گمان نہیں کر سکتے ہوں گے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى۔خاکسار غلام احمد از قادیان - ۲۱ / دسمبر ۱۸۹۶ء انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ا اصفحه ۲۹۹ تا ۳۰۱ حاشیه ) میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ وہ مجھے ایسے مضمون کا القاء کرے جو اس مجمع کی تمام تقریروں پر غالب رہے۔میں نے دُعا کے بعد دیکھا کہ ایک قوت میرے اندر پھونک دی گئی ہے میں نے اس آسمانی قوت کی ایک حرکت اپنے اندر محسوس کی اور میرے دوست جو اس وقت حاضر تھے جانتے ہیں کہ میں نے اس مضمون کا کوئی مسودہ نہیں لکھا جو کچھ لکھا صرف قلم برداشتہ لکھا تھا اور ایسی تیزی اور جلدی سے میں لکھتا جاتا تھا کہ نقل کرنے والے کے لئے مشکل ہو گیا کہ اس قدر جلدی سے اس کی نقل لکھے۔