حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 523 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 523

۱۲۰۵ لکھا تھا جیسا کہ کتاب جنگ مقدس کے آخری صفحہ میں اس کا ذکر ہے۔وہ شرارت اور شوخی اس کی مجھے تمام ایام بحث میں یاد ہے اور میں دل و جان سے چاہتا تھا کہ اس کی سرزنش کی نسبت کوئی پیشگوئی خدائے تعالیٰ سے پاؤں۔چنانچہ میں نے آتھم سے ایک دستخطی تحریر بھی اسی غرض سے لے لی تھی تا وہ پیشگوئی کے وقت عام عیسائیوں کی طرح میری آزار دہی کے لئے کسی عدالت کی طرف نہ دوڑے۔سو میں پندرہ دن تک بحث میں مشغول رہا اور پوشیدہ طور پر آتھم کی سرزنش کے لئے دعا مانگتا رہا۔جب بحث کے دن ختم ہو گئے تو میں نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع پائی کہ اگر آتھم اس شوخی و گستاخی سے تو بہ اور رجوع نہیں کرے گا جو اُس نے دجال کا لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اپنی کتاب میں لکھا تو وہ ہادیہ میں پندرہ مہینے کے اندر گرایا جائے گا۔سو یہ امر الہی پا کر بحث کے خاتمے کے دن ایک جماعت کثیر کے رو بروجس میں عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر مارٹن کلارک اور تمہیں کے قریب اور عیسائی تھے اور میری جماعت کے لوگ بھی تھیں یا چالیس کے قریب تھے جن میں سے اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب اور اخویم مولوی عبد الکریم اور اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب اور اخویم منشی تاج الدین صاحب اکوئنٹنٹ دفتر ریلوے لا ہور اور اخویم عبدالعزیز خاں صاحب کلارک دفتر اگر یمینز ریلوے لا ہور اور اخویم خلیفہ نورالدین صاحب وغیرہ احباب موجود تھے۔میں نے ڈپٹی عبد اللہ آتھم کو کہا کہ آج یہ مباحثہ منقولی اور معقولی رنگ میں تو ختم ہو گیا مگر ایک اور رنگ کا مقابلہ باقی رہا جو خدا کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب اندرونہ بائیل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کے نام سے پکارا ہے اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور سچا رسول جانتا ہوں اور دین اسلام کو منجانب اللہ یقین رکھتا ہوں۔پس یہ وہ مقابلہ ہے کہ آسمانی فیصلہ اس کا تصفیہ کرے گا اور وہ آسمانی فیصلہ یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے جو شخص اپنے قول میں جھوٹا ہے اور ناحق رسول صادق کو کا ذب اور دجال کہتا ہے اور حق کا دشمن ہے وہ آج کے دن سے پندرہ مہینے تک اس شخص کی زندگی میں ہی جو حق پر ہے ہادیہ میں گرے گا۔بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے یعنی راستباز اور صادق نبی کو دجال کہنے سے باز نہ آوے اور بے باکی اور بد زبانی نہ چھوڑے۔یہ اس لئے کہا گیا کہ صرف کسی مذہب کا انکار کرنا دنیا میں مستوجب سزا نہیں ٹھہراتا بلکہ بے باکی اور شوخی اور بد زبانی مستوجب سزا ٹھہراتی ہے۔غرض جب آتھم کو اسی مجلس میں جس میں ستر سے زیادہ آدمی ہوں گے یہ پیشگوئی سنائی گئی تو اُس کا رنگ فق اور چہرہ زرد ہو گیا اور ہاتھ کا پنپنے لگے۔تب اس نے بلا تو قف اپنی زبان منہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر دھر لئے اور ہاتھوں کو مع