حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 402

۱۰۸۴ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو ان نوروں سے خاص کیا ہے جو برگزیدہ بندوں کو ملتے ہیں جن کا دوسرے لوگ مقابلہ نہیں کر سکتے۔پس اگر تم کو شک ہو تو مقابلہ کے لئے آؤ اور یقینا سمجھو کہ تم ہرگز مقابلہ نہیں کرسکو گے۔تمہارے پاس زبانیں ہیں مگر دل نہیں۔جسم ہے مگر جان نہیں۔آنکھوں کی پتلی ہے مگر اس میں نور نہیں۔خدا تعالیٰ تمہیں نور بخشے تا تم دیکھ لو۔(فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۴ حاشیہ ) خدا تعالیٰ اس زمانہ میں بھی اسلام کی تائید میں بڑے بڑے نشان ظاہر کرتا ہے اور جیسا کہ اس بارہ میں میں خود صاحب تجربہ ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اگر میرے مقابل پر تمام دنیا کی قومیں جمع ہو جائیں اور اس بات کا بالمقابل امتحان ہو کہ کس کو خدا غیب کی خبریں دیتا ہے اور کس کی دعائیں قبول کرتا ہے اور کس کی مدد کرتا ہے اور کس کے لئے بڑے بڑے نشان دکھاتا ہے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ہی غالب رہوں گا۔کیا کوئی ہے؟ کہ اس امتحان میں میرے مقابل پر آوے ہزار ہانشان خدا نے محض اس لئے مجھے دیئے ہیں کہ تا دشمن معلوم کرے کہ دین اسلام سچا ہے۔میں اپنی کوئی عزت نہیں چاہتا بلکہ اس کی عزت چاہتا ہوں جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۸۲۱۸۱) جاننا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے قرآن کریم میں چار عظیم الشان آسمانی تائیدوں کا کامل متقیوں اور کامل مومنوں کے لئے وعدہ دیا ہے اور وہی کامل مومن کے شناخت کے لئے کامل علامتیں ہیں اور وہ یہ ہیں۔اول یہ کہ مومن کامل کو خدائے تعالیٰ سے اکثر بشارتیں ملتی ہیں یعنی پیش از وقوع خوش خبریاں جو اس کی مرادات یا اس کے دوستوں کے مطلوبات ہیں اس کو بتلائی جاتی ہیں۔دوم یہ کہ مومن کامل پر ایسے امور غیبیہ کھلتے ہیں جو نہ صرف اس کی ذات یا اس کے واسطے داروں سے متعلق ہوں بلکہ جو کچھ دُنیا میں قضا و قدر نازل ہونے والی ہے یا بعض دنیا کے افراد مشہورہ پر کچھ تغیرات آنے والے ہیں ان سے برگزیدہ مومن کو اکثر اوقات خبر دی جاتی ہے۔سیوم یہ کہ مومن کامل کی اکثر دعائیں قبول کی جاتیں ہیں اور اکثر ان دعاؤں کی قبولیت کی پیش از وقت اطلاع دی جاتی ہے۔چہارم یہ کہ مومن کامل پر قرآن کریم کے دقائق و معارف جدیدہ و لطائف و خواص عجیبہ سب سے زیادہ کھولے جاتے ہیں۔ان چاروں علامتوں میں مومن کامل نسبتی طور پر دوسروں پر غالب رہتا ہے اور اگر چہ دائمی طور پر یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ ہمیشہ مومن کامل کو منجانب اللہ بشارتیں ہی ملتی رہیں یا ہمیشہ بلا تخلف ہر ایک دُعا اس کی منظور ہی ہو جایا