حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 403
۱۰۸۵ کرے اور نہ یہ کہ ہمیشہ ہر ایک حادثہ زمانہ سے اس کو اطلاع دی جائے اور نہ یہ کہ ہر وقت معارف قرآنی اس پر کھلتے رہیں لیکن غیر کے مقابلہ کے وقت ان چاروں علامتوں میں کثرت مومن ہی کی طرف رہتی ہے۔اگر چہ ممکن ہے کہ غیر کو بھی مثلاً جو مومن ناقص ہے شاذ و نادر کے طور پر ان نعمتوں سے کچھ حصہ دیا جاوے مگر اصلی وارث ان نعمتوں کا مومن کامل ہی ہوتا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ یہ مرتبہ کاملہ مومن کا بغیر مقابلہ کے ہر ایک بلید و غیبی اور کوتاہ نظر پر کھل نہیں سکتا۔لہذا نہایت صاف اور سہل طریق حقیقی اور کامل مومن کی شناخت کے لئے مقابلہ ہی ہے کیونکہ اگر چہ یہ تمام علامات بطور خود بھی مومن کامل سے صادر ہوتی رہتی ہیں لیکن یکطرفہ طور پر بعض وقتیں بھی ہیں مثلاً بسا اوقات مومن کامل کی خدمت میں دعا کرانے کے لئے ایسے لوگ بھی آ جاتے ہیں جن کی تقدیر میں قطعاً کامیابی نہیں ہوتی اور قلم ازل مبرم طور پر اُن کے مخالف چلی ہوئی ہوتی ہے۔سو وہ لوگ اپنی ناکامی کی وجہ سے مومن کامل کی اس علامت قبولیت کو شناخت نہیں کر سکتے بلکہ اور بھی شک میں پڑ جاتے ہیں اور اپنے محروم رہنے کی وجہ سے مومن کامل کے کمالات قبولیت پر مطلع نہیں ہو سکتے۔اور اگر چہ مومن کامل کا خدائے تعالیٰ کے نزدیک بڑا درجہ اور مرتبہ ہوتا ہے اور اس کی خاطر سے اور اس کی تضرع اور دُعا سے بڑے بڑے پیچیدہ کام درست کئے جاتے ہیں اور بعض ایسی تقدیریں جو تقدیر مبرم کے مشابہ ہوں بدلائی بھی جاتی ہیں۔مگر جو تقدیر حقیقی اور واقعی طور پر مبرم ہے وہ مومن کامل کی دعاؤں سے ہرگز بدلائی نہیں جاتی اگر چہ وہ مومن کامل نبی یا رسول کا ہی درجہ رکھتا ہو۔غرض نسبتی طور پر مومن کامل ان چاروں علامتوں میں اپنے غیر سے بہداہت ممیز ہوتا ہے اگر چہ دائمی طور پر قادر اور کامیاب نہیں ہو سکتا۔پس جبکہ یہ امر ثابت ہو چکا کہ نسبتی طور پر حقیقی اور کامل مومن کو کثرتِ بشارات اور کثرت استجابت دعا اور کثرت انکشاف مغیبات اور کثرت انکشاف معارف قرآنی سے وافر حصہ ہے تو مومن کامل اور اس کے غیر کے آزمانے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی طریق نہ ہوگا کہ بذریعہ مقابلہ ان دونوں کو جانچا اور پرکھا جاوے۔یعنی اگر یہ امر لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہو کہ دو شخصوں میں سے کون عند اللہ مومن کامل اور کون اس درجہ سے گرا ہوا ہے تو انہی چاروں علامتوں کے ساتھ مقابلہ ہونا چاہئے یعنی ان چاروں علامتوں کو محک اور معیار ٹھہرا کر مقابلہ کے وقت دیکھا جاوے کہ اس معیار اور ترازو کی رُو سے کون شخص پورا اُترا ہے اور کس کی حالت میں کمی اور نقصان ہے۔اب خلق اللہ گواہ رہے کہ میں خالصًا لِلهِ اور إِظْهَارًا لِلْحَقِّ اس مقابلہ کو بدل و جان منظور کرتا ہوں اور مقابلہ کے لئے جو صاحب میرے سامنے آنا چاہیں اُن میں سے سب سے اول نمبر میاں نذیر حسین دہلوی