حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 382

گویا نیست سے ہست ہو گیا۔اور نیستی سے ہستی ہونا ایسی دور از فہم بات ہے کہ کو ئی عقلمند اس کو نہیں مانے گا مگر میں کہتا ہوں کہ یوں تو فاسد اور ناقص عقل کے مارے ہوئے خدائے تعالیٰ کو بھی نہیں مانتے لیکن جس شخص کی عقل سلیم ہے اس کو تو خدائے تعالیٰ کے ماننے کے ساتھ ہی اس کی وہ تمام صفات بھی ماننے پڑیں گے جو مدار اس کی خدائی اور الوہیت کے ہیں اور جو شخص خدائے تعالیٰ کی اس نہایت ضروری صفت کو مان لے گا کہ وہ قادر مطلق اور بے انتہا طاقتوں کا مالک ہے تو پھر ہر گز اس کی قدرتوں کو اپنی عقل ناقص کے ساتھ موازنہ نہیں کرے گا اور خدائے غیر محدود کی قادرانہ قوتوں کو کسی حد خاص میں محدود نہیں جانے گا اور نیز جب ایک منظمند دیکھے گا کہ خدائے تعالیٰ ایسا اپنی ذات میں مظہر العجائب و بلند تر از احاطۂ فکر وقیاس ہے جو بغیر اسباب آنکھوں کے دیکھتا ہے اور بغیر اسباب کانوں کے سنتا ہے اور بغیر اسباب زبان کے بولتا ہے اور بغیر حاجت معماروں و مزدوروں اور نجاروں و آلات عمارت سازی و فراہمی اینٹوں و پتھروں وغیرہ کے صرف اپنے ارادہ اور حکم کے اشارہ سے ایک طرفہ العین میں زمین و آسمان بنا سکتا ہے تو بے شک اس بات کا یقین بھی کرے گا کہ وہ قادر خدا نیستی سے ہستی بھی کر سکتا ہے۔یہی تو خدائی ہے اسی وجہ سے تو وہ سرب شکتی مان اور قادر مطلق اور غیر متناہی قدرتوں کا مالک کہلاتا ہے۔اگر اس کے کام بھی انسانی کاموں کی طرح محتاج با سباب و مواد و اوقات ضرور یہ ہوں تو پھر وہ کا ہے کا خدا ہو۔اور اس کی خدائی کیونکر چل سکے؟ کیا اس کے تمام کام بالا تر از عقل نہیں ہیں؟ کیا اس کی عجائب قدرتیں ایسی نہیں ہیں کہ ان پر نظر ڈال کر عقل ناقص انسانی خیرہ رہ جاتی ہے؟ تو پھر کیسی جہالت ہے کہ جو بات اس کی خدائی کا مدار اور اُس کی الوہیت کی حقیقت ہے اسی پر اعتراض کیا جائے۔۔ایسا پر میشر کس بات کا پر میشر ہے کہ اگر وہ کسی اپنے امر متخیل کو کہے کہ ہو جا تو کچھ بھی نہ ہو۔خدا تو اسی ذات عجیب القدرت کا نام ہے کہ جو اس کے ارادہ سے سب کچھ ہو جاتا ہے۔جب وہ اپنے کسی امر مقصود کو کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ فی الفور اس کی قدرت کاملہ سے نقش وجود پکڑ جاتا ہے۔یہ راز نہایت دقیق معرفت کا نکتہ ہے کہ سب مخلوقات کلمات الہیہ ہیں۔عیسائیوں نے جب اپنی نادانی سے یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کلمتہ اللہ ہیں یعنی ان کی روح کلمہ الہی ہے جو متشکل بروح ہوگئی ہے تو خدائے تعالیٰ نے اس کا یہ حقانی جواب دیا کہ کوئی بھی ایسی روح نہیں جو کلمتہ اللہ نہ ہو اور مجرد الہی حکم سے نہ نکلی ہو قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ رَنِی یا اسی کی طرف اشارہ ہے اور یہ بات جو کلمات اللہ ے بنی اسرائیل: ۸۶