حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 381

تمام خوبیوں کا جامع اور تمام کمالات کا متجمع اور بجز اور نقص اور احتیاج الی الخیر سے پاک ہے لیکن تم سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ میچ نہیں ہے کہ ارواح اور اجسام کی غیر مخلوق اور خود بخود ماننے سے ان تمام صفات کاملہ الہیہ میں سے کوئی بات بھی قائم نہیں رہ سکتی اور ایک ایسا سخت صدمہ اس کی شان خدائی پر پہنچتا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ایک ادنی درجہ کی عقل بھی سمجھ سکتی ہے کہ خدائے تعالیٰ کے ایک ہونے کے یہی معنے ہیں کہ در حقیقت وجود اس کا وجود ہے اور باقی سب چیزیں اُس سے نکلی ہیں اور اسی کے ساتھ قائم اور اسی کے رشحات فیض سے اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتی ہیں۔مگر افسوس کہ آریوں کا علم الہی اس کے برخلاف بتلا رہا ہے۔ان کی کتابیں انہی واو میلوں سے پر ہیں کہ ہم بھی پر میشر کی طرح قدیم اور غیر مخلوق اور انادی اور اس کی مشابہ اور اپنے اپنے وجود کے آپ خدا ہیں۔نہیں سوچتے کہ اگر وہ بھی قدیم الذات اور قائم بذاتہ اور واجب الوجود ہیں تو پھر خدا جیسے ہو کر اس کی ماتحت کیوں ہو گئے ؟ اور کس نے درمیان میں ہو کر دونوں میں تعلق پیدا کر دیا۔۔یہ بات ایک لڑکا بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر سب ارواح اور اجسام خود بخود پر میشر کی طرح قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں تو پر میشر اس دعوی کا ہرگز مجاز نہیں رہا کہ میں ان چیزوں کا رب اور پیدا کنندہ ہوں کیونکہ جبکہ ان چیزوں نے پر میشر کے ہاتھ سے وجود ہی نہیں لیا تو پھر ایسا پر میشران کا رب اور مالک کیونکر ہو سکتا ہے۔مثلاً اگر کوئی بچہ بنا بنایا آسمان سے گرے یا زمین کے خمیر سے خود پیدا ہو جائے تو کسی عورت کو یہ دعویٰ ہرگز نہیں پہنچتا کہ یہ میرا بچہ ہے بلکہ اس کا بچہ وہی ہوگا جو اس کے پیٹ سے نکلا ہے۔سو جو خدا کے ہاتھ سے نکلا ہے وہی خدا کا ہے۔اور جو اس کے ہاتھ سے نہیں نکلا وہ اس کا کسی طور سے نہیں ہو سکتا۔کوئی صالح اور بھلا مانس ایسی چیزوں پر ہرگز قبضہ نہیں کرتا جو اس کے نہ ہوں تو پھر کیوں کر آریوں کے پرمیشر نے ایسی چیزوں پر قبضہ کر لیا جن پر قبضہ کرنے کا اس کو کوئی استحقاق نہیں۔سو سوچنا چاہئے کہ یہ بات کس قدر مکروہ اور دور از حقانیت ہے کہ مالک الخلق اور رب العالمین کو اُس کی مخلوقات سے جواب دیا جاتا ہے اور جو اصل حقیقت خدائی کی تھی اس سے اس کو الگ کیا جاتا ہے۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۴۴ تا ۱۴۶) بعض آریہ سماج والے ارواح کے غیر مخلوق اور اپنے وجود کے آپ خدا ہونے کے بارے میں یہ دلیل پیش کیا کرتے ہیں کہ اگر ارواح کسی وقت معدوم تھی اور پھر خدائے تعالیٰ کے پیدا کرنے سے موجود ہوئی تو