حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 383

بصورت ارواح و دیگر مخلوق جلوہ گر ہو جاتی ہیں یہ خالقیت کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے اور اسرار الہیہ میں سے ایک بار یک نکتہ ہے جس کی طرف کسی انسانی عقل کو خیال نہیں آیا اور خدائے تعالیٰ کے پاک اور کامل کلام نے اس کو اپنے الہی نور سے منکشف کیا ہے اور اگر ایسا نہ مانا جائے کہ خدائے تعالیٰ اپنے ہی کلمہ اور امر سے ارواح اور اجسام کو وجود پذیر کر لیتا ہے تو پھر آخر یہ ماننا پڑے گا کہ جب تک باہر سے اجسام اور روح نہ آویں پر میشر کچھ بھی نہیں کر سکتا مگر کیا ایسا کمبخت پر میشر ہو سکتا ہے کہ جو درحقیقت اپنے گھر سے تو دیوالیہ اور مفلس اور تمہیدست ہے لیکن کسی عارضی اتفاق سے اس کی خدائی کا دھندا چل رہا ہو۔اگر پر میشر ایسا ہی ہے تو سب اُمیدیں خاک میں مل گئیں اور ایسے پر میشر پر بھروسہ کرنا بھی بڑا معرض خطر ہو گا۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۶۳ تا ۱۶۵) قرآن شریف کہتا ہے کہ روحیں انادی اور غیر مخلوق نہیں اور دو نطفوں کی ایک خاص ترکیب سے وہ پیدا ہوتی ہیں اور یا دوسرے کیڑے مکوڑوں میں ایک ہی مادہ سے پیدا ہو جاتی ہیں اور یہی سچ ہے کیونکہ مشاہدہ اس پر گواہی دیتا ہے جس کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں اور امور محسوسہ مشہودہ سے انکار کرنا سراسر جہالت ہے اور جب ہم کہتے ہیں کہ روح نیست سے ہست ہوتا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اوّل وہ کچھ بھی نہیں تھا بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اس کے لئے کوئی ایسا مادہ نہیں تھا کہ انسان اپنی قوت سے اس میں سے روح نکال سکتا اور اس کی پیدائش صرف اس طور سے ہے کہ محض الہی قوت اور حکمت اور قدرت کسی مادہ میں سے اس کو پیدا کر دیتی ہے۔اسی واسطے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ روح کیا چیز ہے تو خدا نے فرمایا کہ تو ان کو جواب دے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے۔اس بارے میں آیت قرآنی یہ ہے کہ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا لے یعنی یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ روح کیا چیز ہے اور کیونکر پیدا ہوتی ہے ان کو جواب دے کہ روح میرے رب کے امر سے پیدا ہوتی ہے یعنے وہ ایک راز قدرت ہے اور تم لوگ روح کے بارے میں کچھ علم نہیں رکھتے مگر تھوڑا سا یعنی صرف اس قدر کہ تم روح کو پیدا ہوتے دیکھ سکتے ہو اس سے زیادہ نہیں جیسا کہ ہم بچشم خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری آنکھ کے سامنے کسی مادہ میں سے کیڑے مکوڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔اور انسانی روح کے پیدا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت یہ ہے کہ دونطفوں کے ملنے کے بنی اسرائیل: ۸۶