حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 303
۹۸۵ متعلق یا آئندہ نتائج کے متعلق ہے اور اس سلسلہ کے لحاظ سے وَضْعُ شَيْءٍ فِي مَحَلِّهِ اور کوئی کارروائی حکمت عملی سے باہر نہ ہو۔اور یہ نام بھی اپنے حقیقی معنوں کی رُو سے بجز خدا تعالیٰ کے کسی غیر پر اطلاق نہیں پاسکتا۔کیونکہ کامل تدبیر غیب دانی پر موقوف ہے اور وہ بجز خدا تعالیٰ کے کسی کے لئے مسلم نہیں۔اور چار باقی نام یعنی مُرَبِّى قَيِّمُ۔مُنْعِمُ۔مُتَمِّم خدا تعالیٰ کے ان فیوض پر دلالت کرتے ہیں جو بلحاظ اس کی کامل ملکیت اور کامل سیادت اور کامل تدبیر کے اس کے بندوں پر جاری ہیں۔چنانچہ مربّی کا لفظ بظاہر معنے پرورش کرنے والے کو کہتے ہیں۔اور کامل طور پر تربیت کی حقیقت یہ ہے کہ جس قدر خلقت انسان کے شعبے باعتبار جسم اور رُوح اور تمام طاقتوں اور قوتوں کے پائے جاتے ہیں ان تمام شاخوں کی پرورش ہو اور جہاں تک بشریت کی جسمانی اور روحانی ترقیات اس پرورش کے کمال کو چاہتے ہیں ان تمام مراتب تک پرورش کا سلسلہ ممتد ہو۔ایسا ہی جس نقطہ سے بشریت کا نام اور اسم یا اس کے مبادی شروع ہوتے ہیں اور جہاں سے بشری نقش یا کسی دوسری مخلوق کا نقش وجود عدم سے ہستی کی طرف حرکت کرتا ہے اس اظہار اور ابراز کا نام بھی پرورش ہے۔پس اس سے معلوم ہوا کہ لغت عرب کے رُو سے ربوبیت کے معنے نہایت ہی وسیع ہیں اور عدم کے نقطہ سے مخلوق کے کمال تام کے نقطہ تک ربوبیت کا لفظ ہی اطلاق پاتا ہے۔اور خالق وغیرہ الفاظ رب کے اسم کی فرع ہیں۔اور قیم کے معنے ہیں نظام کو محفوظ رکھنے والا اور منعم کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک قسم کا انعام اکرام جو انسان یا کوئی دوسری مخلوق اپنی استعداد کی رو سے پاسکتی ہے اور بالطبع اس نعمت کے خواہاں ہے وہ انعام اس کو عطا کرے تاہر یک مخلوق اپنے کمال تام کو پہنچ جائے جیسا کہ اللہ جل شانہ ایک جگہ فرماتا ہے۔رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْ خَلَقَهُ ثُمَّ هَدی اے یعنی وہ خدا جس نے ہر یک چیز کو اس کے مناسب حال کمال خلقت بخشا اور پھر اس کو دوسرے کمالات مطلوبہ کے لئے رہنمائی کی۔پس یہ انعام ہے کہ ہر یک چیز کو اول اس کے وجود کی رو سے وہ تمام قومی وغیرہ عنایت ہوں جن کی وہ چیز محتاج ہے پھر اس کے حالات مترقبہ کے حصول کے لئے اس کو راہیں دکھائی جائیں اور متمم کے یہ معنی ہیں کہ سلسلہ فیض کو کسی پہلو سے بھی ناقص نہ چھوڑا جائے اور ہر ایک پہلو سے اس کو کمال تک پہنچایا جائے۔سورت کا اسم جو قرآن کریم میں آیا ہے جس کو ہم اقتباس کے طور پر اس خطبہ کے اول میں لائے ہیں ان وسیع معنوں پر مشتمل ہے جن کو ہم نے بطور اختصار اس مضمون میں ذکر کیا ہے۔طه: ۵۱