حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 302

۹۸۴ سے خود بخو د متابعت کرتے ہیں اور سچی محبت سے اس کو سید نا کر کے پکارتے ہیں اور ایسی متابعت بادشاہ کی اس وقت کی جاتی ہے کہ جب وہ بھی لوگوں کی نظر میں سید قرار پاوے۔غرض سید کا لفظ بھی حقیقی طور پر بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر بولا نہیں جاتا۔کیونکہ حقیقی اور واقعی جوش سے اطاعت جس کے ساتھ کوئی شائبہ اغراض نفسانیہ کا نہ ہو بجز خدا تعالیٰ کے کسی کے لئے ممکن نہیں۔وہی ایک ہے جس کی سچی اطاعت روحیں کرتی ہیں کیونکہ وہ ان کی پیدائش کا حقیقی مبدا ہے اس لئے طبعاً ہر یک روح اس کو سجدہ کرتی ہے۔بت پرست اور انسان پرست بھی اس کی اطاعت کے لئے ایسا ہی جوش رکھتے ہیں جیسا کہ ایک موحد راستباز۔مگر انہوں نے اپنی غلطی سے اور قصور طلب سے اس زندگی کے بچے چشمے کو شناخت نہیں کیا بلکہ نابینائی کی وجہ سے اس اندرونی جوش کو غیر محل پر وضع کر دیا۔تب کسی نے پتھروں کو اور کسی نے رامچندر کو اور کسی نے کرشن کو اور کسی نے نعوذ باللہ ابن مریم کو خدا بنا لیا لیکن اس دھوکہ سے بنایا کہ شائد وہ جو مطلوب ہے یہ وہی ہے۔سو یہ لوگ مخلوق کو حق اللہ دے کر ہلاک ہو گئے۔ایسا ہی اس حقیقی محبوب اور سید کی روحانی طلب میں ہوا پرستوں نے دھو کے کھائے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں بھی ایک محبوب اور ایک حقیقی سید کی طلب تھی مگر انہوں نے اپنے دلی خیالات کو اچھی طرح شناخت نہ کر کے یہ خیال کیا کہ وہ حقیقی محبوب اور سید جس کو روھیں طلب کر رہی ہیں اور جس کی اطاعت کے لئے جانیں اچھل رہی ہیں وہ دنیا کے مال اور دنیا کے املاک اور دنیا کی لذات ہی ہیں۔مگر یہ اُن کی غلطی تھی بلکہ روحانی خواہشوں کا محرک اور پاک جذبات کا باعث وہی ایک ذات ہے جس نے فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ لے یعنی جن اور انس کی پیدائش اور ان کی تمام قویٰ کا میں ہی مقصود ہوں۔وہ اسی لئے میں نے پیدا کئے کہ تا مجھے پہچانیں اور میری عبادت کریں۔سو اُس نے اس آیت میں اشارہ کیا کہ جن و انس کی خلقت میں اُس کی طلب و معرفت اور اطاعت کا مادہ رکھا گیا ہے۔اگر انسان میں یہ مادہ نہ ہوتا تو نہ دنیا میں ہوا پرستی ہوتی نہ بت پرستی نہ انسان پرستی کیونکہ ہر یک خطا صواب کی تلاش میں پیدا ہوا ہے۔غرض سیادت حقیقی اسی ذات کے لئے مسلّم ہے اور وہی واقعی طور پر سید ہے۔اور منجملہ ان تین ناموں کے جو خدا تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں مدبر بھی ہے اور تدبیر کے معنے ہیں کہ کسی کام کے کرنے کے وقت تمام ایسا سلسلہ نظر کے سامنے حاضر ہو جو گذشتہ واقعات کے الدريت : ۵۷