حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 304
۹۸۶ اب ہم نہایت افسوس سے لکھتے ہیں کہ ایک نا سمجھ انگریز عیسائی نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اسلام پر عیسائی مذہب کو یہ فضیلت ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ کا نام باپ بھی آیا ہے اور یہ نام نہایت پیارا اور دلکش ہے۔اور قرآن میں یہ نام نہیں آیا۔مگر ہمیں تعجب ہے کہ اس معترض نے اس تحریر کے وقت پر یہ خیال نہیں کیا کہ لغت نے کہاں تک اس لفظ کی عزت اور عظمت ظاہر کی ہے۔کیونکہ ہر ایک لفظ کو حقیقی عزت اور بزرگی لغت سے ہی ملتی ہے اور کسی انسان کو یہ اختیار نہیں کہ اپنی طرف سے کسی لفظ کو وہ عزت دے جو لغت اس کو دے نہیں سکی۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ کا کلام بھی لغت کے التزام سے باہر نہیں جاتا اور تمام اہل عقل اور نقل کے اتفاق سے کسی لفظ کی عزت اور عظمت ظاہر کرنے کے وقت اول لغت کی طرف رجوع کرنا چاہئے کہ اس زبان نے جس زبان کا وہ لفظ ہے یہ خلعت کہاں تک اس کو عطا کی ہے۔اب اس قاعدہ کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر جب سوچیں کہ اب یعنی باپ کا لفظ لغت کی رُو سے کس پایہ کا لفظ ہے تو بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ جب مثلاً ایک انسان فی الحقیقت دوسرے انسان کے نطفہ سے پیدا ہو مگر پیدا کرنے میں اس نطفہ انداز انسان کا کچھ بھی دخل نہ ہو تب اس حالت میں کہیں گے کہ یہ انسان فلاں انسان کا اب یعنی باپ ہے اور اگر ایسی صورت ہو کہ خدائے قادر مطلق کی یہ تعریف کرنی منظور ہو جو مخلوق کو اپنے خاص ارادہ سے خود پیدا کرنے والا خود کمالات تک پہنچانے والا اور خود رحم عظیم سے مناسب حال اُس کے انعام کرنے والا اور خود حافظ اور قیوم ہے تو لغت ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ اس مفہوم کو اب یعنی باپ کے لفظ سے ادا کیا جائے بلکہ لغت نے اس کے لئے ایک دوسرا لفظ رکھا ہے جس کو رب کہتے ہیں۔جس کی اصل تعریف ابھی ہم لغت کی رُو سے بیان کر چکے ہیں اور ہم ہرگز مجاز نہیں کہ اپنی طرف سے لغت تراشیں بلکہ ہمیں انہیں الفاظ کی پیروی لازم ہے جو قدیم سے خدا تعالیٰ کی طرف سے چلے آئے ہیں۔پس اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اب یعنی باپ کا لفظ خدا تعالیٰ کی نسبت استعمال کرنا ایک سوء ادب اور ہجو میں داخل ہے اور جن لوگوں نے حضرت مسیح کی نسبت یہ الزام گھڑا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو اب کر کے پکارتے تھے۔اور در حقیقت جناب الہی کو اپنا باپ ہی یقین رکھتے تھے۔انہوں نے نہایت مکروہ اور جھوٹا الزام ابن مریم پر لگایا ہے۔کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح ایسی نادانی کے مرتکب ہوئے کہ جو لفظ اپنے لغوی معنوں کی رُو سے ایسا حقیر اور ذلیل ہو جس میں ناطاقتی اور کمزوری اور بے اختیاری ہر ایک پہلو سے پائی جائے وہی لفظ حضرت مسیح اللہ جل شانہ کی نسبت