حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 146

۸۲۸ اهْدِنَا القِصَّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ یا کیونکہ ہر ایک قسم کی کجی اور بے راہی سے باز آکر اور بالکل رو بخدا ہو کر راہ راست کو اختیار کرنا یہ وہی سخت گھائی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں فنا سے تعبیر کیا گیا ہے۔کیونکہ امور مالوفہ اور معتادہ کو یک لخت چھوڑ دینا اور نفسانی خواہشوں کو جو ایک عمر سے عادت ہو چکی ہے یک دفعہ ترک کرنا۔اور ہر یک ننگ اور ناموس اور عجب اور ریا سے منہ پھیر کر اور تمام ماسوی اللہ کو کالعدم سمجھ کر سیدھا خدا کی طرف رخ کر لینا حقیقت میں ایک ایسا کام ہے جو موت کے برابر ہے اور یہ موت روحانی پیدائش کا مدار ہے اور جیسے دانہ جب تک خاک میں نہیں ملتا اور اپنی صورت کو نہیں چھوڑ تا تب تک نیا دانہ وجود میں آنا غیر ممکن ہے۔اسی طرح روحانی پیدائش کا جسم اس فنا سے طیار ہوتا ہے۔جوں جوں بندہ کا نفس شکست پکڑتا جاتا ہے اور اس کا فعل اور ارادت اور رو خلق ہونا فنا ہوتا جاتا ہے توں توں پیدائش روحانی کے اعضاء بنتے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب فنا اتم حاصل ہو جاتی ہے تو وجود ثانی کی خلعت عطا کی جاتی ہے اور ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ ے کا وقت آ جاتا ہے اور چونکہ یہ فناء اتم بغیر نصرت و توفیق و توجہ خاص قادر مطلق کے ممکن نہیں اس لئے یہ دعا تعلیم کی یعنی اِهْدِنَا الصَّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے جس کے یہ معنے ہیں کہ اے خدا ہم کو راہ راست پر قائم کر اور ہر یک طور کی کجی اور بے راہی سے نجات بخش اور یہ کامل استقامت اور راست روی جس کو طلب کرنے کا حکم ہے نہایت سخت کام ہے اور اوّل دفعہ میں اس کا حملہ سالک پر ایک شیر ببر کی طرح ہے جس کے سامنے موت نظر آتی ہے۔پس اگر سالک ٹھہر گیا اور اس موت کو قبول کر لیا تو پھر بعد اس کے کوئی اسے سخت موت نہیں اور خدا اس سے زیادہ تر کریم ہے کہ پھر اس کو یہ جلتا ہوا دوزخ دکھاوے۔غرض یہ کامل استقامت وہ فنا ہے کہ جس سے کارخانہ وجود بندہ کو بکلی شکست پہنچتی ہے اور ہوا اور شہوت اور ارادت اور ہر یک خودروی کے فعل سے بیک بارگی دست کش ہونا پڑتا ہے اور یہ مرتبہ سیر وسلوک کے مراتب میں سے وہ مرتبہ ہے جس میں انسانی کوششوں کا بہت کچھ دخل ہے اور بشری مجاہدات کی بخوبی پیش رفت ہے اور اسی حد تک اولیاء اللہ کی کوششیں اور سالکین کی محنتیں ختم ہو جاتی ہیں اور پھر بعد اس کے خاص مواہب سماوی ہیں جن میں بشری کوششوں کو کچھ دخل نہیں بلکہ خود خدائے تعالی کی طرف سے عجائبات سماوی کی سیر کرانے کے لئے غیبی سواری اور آسمانی براق عطا ہوتا ہے۔اور دوسری ترقی کہ جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے دوسرا قدم ہے اس آیت میں تعلیم کی گئی الفاتحة: ٦ ٢ المؤمنون: ۱۵ ۳ الفاتحة: ۶