حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 145
۸۲۷ سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ سالک خدا کی محبت ایسا فانی اور مستہلک ہو جاتا ہے اور اس قدرت ذات بے چون و بے چاگون اپنی تمام صفات کا ملہ کے ساتھ اس سے قریب ہو جاتی ہے کہ الوہیت کے تجلیات اس کے نفسانی جذبات پر ایسے غالب آ جاتے ہیں اور ایسے اس کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں جو اس کو اپنے نفسانی جذبات سے بلکہ ہر یک سے جو نفسانی جذبات کا تابع ہو مغائرت کلی اور عداوت ذاتی پیدا ہو جاتی ہے۔اور اس میں اور قسم دویم کی ترقی میں فرق یہ ہے کہ گوشتم دوریم میں بھی اپنے رب کی مرضی سے موافقت تامہ پیدا ہو جاتی ہے اور اس کا ایلام بصورت انعام نظر آتا ہے مگر ہنوز اس میں ایسا تعلق باللہ نہیں ہوتا کہ جو ماسوی اللہ کے ساتھ عداوت ذاتی پیدا ہو جانے کا موجب ہو اور جس سے محبت الہی صرف دل کا مقصد ہی نہ رہے بلکہ دل کی سرشت بھی ہو جائے۔غرض قسم دویم کی ترقی میں خدا سے موافقت تامہ کرنا اور اس کے غیر سے عداوت رکھنا سالک کا مقصد ہوتا ہے اور اس مقصد کے حصول سے وہ لذت پاتا ہے لیکن قسم سوم کی ترقی میں خدا سے موافقت تامہ اور اس کے غیر سے عداوت خود سالک کی سرشت ہو جاتی ہے۔جس سرشت کو وہ کسی حالت میں چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ انفکاک الشئ عن نفسه محال ہے برخلاف قسم دوم کے کہ اس میں انفکاک جائز ہے اور جب تک ولایت کسی ولی کی قسم سوم تک نہیں پہنچتی عارضی ہے اور خطرات سے امن میں نہیں۔وجہ یہ کہ جب تک انسان کی سرشت میں خدا کی محبت اور اس کے غیر کی عداوت داخل نہیں تب تک کچھ رگ وریشہ ظلم کا اس میں باقی ہے کیونکہ اس نے حق ربوبیت کو جیسا کہ چاہئے تھا ادا نہیں کیا اور لقاء تام حاصل کر نے سے ہنوز قاصر ہے لیکن جب اس کی سرشت میں محبت الہی اور موافقت باللہ بخوبی داخل ہو گئی یہاں تک کہ خدا اس کے کان ہو گیا جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہو گیا جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہو گیا جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں ہو گیا جس سے وہ چلتا ہے تو پھر کوئی ظلم اس میں باقی نہ رہا اور ہر ایک خطرہ سے امن میں آ گیا۔اسی درجہ کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَيْك لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُونَ اب سمجھنا چاہئے کہ یہ ترقیات ثلاثہ کہ جو تمام علوم و معارف کا اصل الاصول بلکہ تمام دین کا لب لباب ہے سورۃ فاتحہ میں بتمامتر خوبی و رعایت ایجاز و خوش اسلوبی بیان کئے گئے ہیں۔چنانچہ پہلی ترقی کہ جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے اول قدم ہے اس آیت میں تعلیم کی گئی ہے۔جو فرمایا ہے الانعام: ۸۳