حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 147

۸۲۹ ہے جو فرمایا ہے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم یا یعنی ہم کو ان لوگوں کا راہ دکھلا جن پر تیرا انعام اکرام ہے۔اس جگہ واضح رہے کہ جو لوگ منعم علیہم ہیں اور خدا سے ظاہری و باطنی نعمتیں پاتے ہیں شدائد سے خالی نہیں ہیں بلکہ اس دار الابتلاء میں ایسی ایسی شدتیں اور صعوبتیں ان کو پہنچتی ہیں کہ اگر وہ کسی دوسرے کو پہنچتیں تو مدد ایمانی اس کی منقطع ہو جاتی لیکن اس جہت سے ان کا نام منعم علہیم رکھا گیا ہے کہ وہ باعث غلبہ محبت آلام کو برنگ انعام دیکھتے ہیں اور ہر یک رنج یا راحت جو دوست حقیقی کی طرف سے ان کو پہنچتی ہے بوجہ مستی عشق اس سے لذت اٹھاتے ہیں۔پس یہ ترقی فی القرب کی دوسری قسم ہے جس میں اپنے محبوب کے جمیع افعال سے لذت آتی ہے اور جو کچھ اس کی طرف سے پہنچے انعام ہی انعام نظر آتا ہے۔اور اصل موجب اس حالت کا ایک محبت کامل اور تعلق صادق ہوتا ہے جو اپنے محبوب سے ہو جاتا ہے اور یہ ایک موہبت خاص ہوتی ہے جس میں حیلہ اور تدبیر کو کچھ دخل نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے آتی ہے۔اور جب آتی ہے تو پھر سالک ایک دوسرا رنگ پکڑ لیتا ہے اور تمام بوجھ اس کے سر سے اتارے جاتے ہیں اور ہر یک ایلام انعام ہی معلوم ہوتا ہے اور شکوہ اور شکایت کا نشان نہیں ہوتا۔پس یہ حالت ایسی ہوتی ہے کہ گویا انسان بعد موت کے زندہ کیا گیا ہے کیونکہ ان تلخیوں سے بکلی نکل آتا ہے جو پہلے درجہ میں تھیں۔جن سے ہر ایک وقت موت کا سامنا معلوم ہوتا تھا۔مگر اب چاروں طرف سے انعام ہی انعام پاتا ہے اور اسی جہت سے اس کی حالت کے مناسب حال یہی تھا کہ اس کا نام منعم علیہ رکھا جاتا اور دوسرے لفظوں میں اس حالت کا نام بقا ہے کیونکہ سالک اس حالت میں اپنے تئیں ایسا پاتا ہے کہ گویا وہ مرا ہوا تھا اور اب زندہ ہو گیا اور اپنے نفس میں بڑی خوشحالی اور انشراح صدر دیکھتا ہے اور بشریت کے انقباض سب دور ہو جاتے ہیں اور الوہیت کے مربیانہ انوار نعمت کی طرح برستے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اسی مرتبہ میں سالک پر ہر یک نعمت کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور عنایات الہیہ کامل طور پر متوجہ ہوتی ہیں اور اس مرتبہ کا نام سیر فی اللہ ہے کیونکہ اس مرتبہ میں ربوبیت کے عجائبات سالک پر کھولے جاتے ہیں اور جو ربانی نعمتیں دوسروں سے مخفی ہیں ان کا اس کو سیر کرایا جاتا ہے۔کشوف صادقہ سے متمتع ہوتا ہے اور مخاطبات حضرت احدیت سے سرفرازی پاتا ہے اور عالم ثانی کے بار یک بھیدوں سے مطلع کیا جاتا ہے اور علوم اور معارف سے وافر حصہ دیا جاتا ہے۔غرض ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہت کچھ اس کو عطا کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس درجہ یقین کامل تک پہنچتا ہے کہ گویا الفاتحة: