حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 117
112 کہ میں بلحاظ قرائن قوتیہ گمان کرتا ہوں کہ چودھویں صدی کے سر پر مہدی معہود کا ظہور ہوگا۔دارقطنی کی ایک حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مہدی معہود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔وہ حدیث یہ ہے کہ اِنَّ لِمَهْدِينَا ايَتَيْن الخ ترجمہ تمام حدیث کا یہ ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے دونشان ہیں۔جب سے زمین و آسمان کی بنیاد ڈالی گئی وہ نشان کسی مامور اور مرسل اور نبی کے لئے ظہور میں نہیں آئے۔اور وہ نشان یہ ہیں کہ چاند کا اپنی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات میں اور سورج کا اپنے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں رمضان کے مہینہ میں گرہن ہوگا۔یعنی انہی دنوں میں جبکہ مہدی اپنا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور دنیا اس کو قبول نہیں کرے گی۔آسمان پر اُس کی تصدیق کے لئے ایک نشان ظاہر ہو گا اور وہ یہ کہ مقررہ تاریخوں میں جیسا کہ حدیث مذکورہ میں درج ہیں سورج چاند کا رمضان کے مہینہ میں جو نزول کلام الہی کا مہینہ ہے گرہن ہو گا۔اور ظلمت کے دکھلانے سے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اشارہ ہو گا کہ زمین پر ظلم کیا گیا اور جو خدا کی طرف سے تھا اس کو مفتری سمجھا گیا۔اب اس حدیث سے صاف طور پر چودھویں صدی متعین ہوتی ہے کیونکہ کسوف خسوف جو مہدی کا زمانہ جتلاتا ہے اور مکذبین کے سامنے نشان پیش کرتا ہے وہ چودھویں صدی میں ہی ہوا ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۱۲۸ تا ۱۳۳) چوتھا امر اس بات کا ثابت کرنا ہے کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا چودھویں صدی کے سر پر مقدر تھا وہ میں ہی ہوں۔سواس امر کا ثبوت یہ ہے کہ میرے ہی دعوے کے وقت میں آسمان پر خسوف کسوف ہوا ہے اور میرے ہی دعویٰ کے وقت میں صلیبی فتنے پیدا ہوئے اور میرے ہی ہاتھ پر خدا نے اس بات کا ثبوت دیا کہ مسیح موعود اس امت میں سے ہونا چاہئے اور مجھے خدا نے اپنی طرف سے قوت دی ہے کہ میرے مقابل پر مباحثہ کے وقت کوئی پادری نہیں ٹھہر سکتا اور میرا رعب عیسائی علماء پر خدا نے ایسا ڈال دیا ہے کہ ان کو طاقت نہیں رہی کہ میرے مقابلہ پر آ سکیں۔چونکہ خدا نے مجھے رُوح القدس سے تائید بخشی ہے اور اپنا فرشتہ میرے ساتھ کیا ہے اس لئے کوئی پادری میرے مقابل پر آ ہی نہیں سکتا۔یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ نہیں ہوا کوئی پیشگوئی ظہور میں نہیں آئی اور اب بلائے جاتے ہیں پر نہیں آتے۔اس کا یہی سبب ہے کہ ان کے دلوں میں خدا نے ڈال دیا ہے کہ اس شخص کے مقابل پر ہمیں بجز شکست کے اور کچھ نہیں۔دیکھوا ایسے وقت میں جب حضرت مسیح کے خدا بنانے پر سخت غلو کیا جاتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو روح القدس کی تائید سے خالی خیال کرتے