حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 116

117 کی بھی حاجت نہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ عیسائیت کا اثر لاکھوں انسانوں کے دلوں پر پڑ گیا ہے اور ملک اباحت کی تعلیموں سے متاثر ہوتا جاتا ہے۔صدہا آدمی ہر ایک خاندان میں سے نہ صرف دین اسلام سے ہی مرتد ہو گئے ہیں بلکہ جناب سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن بھی ہو گئے ہیں اور اب تک صد ہا کتا بیں دین اسلام کے رد میں تالیف بھی ہو چکی ہیں۔اور اکثر وہ کتا بیں تو ہین اور گالیوں سے پر ہیں اور اس مصیبت کے وقت جب ہم گذشتہ زمانہ کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک قطعی فیصلہ کے طور پر یہ رائے ظاہر کرنی پڑتی ہے کہ تیرہ سو برس کی بارہ صدیوں میں سے کوئی بھی ایسی صدی اسلام کے مضر نہیں گزری کہ جیسے تیرھویں صدی گزری ہے اور یا جواب گذر رہی ہے۔لہذا عقلِ سلیم اس بات کی ضرورت کو مانتی ہے کہ ایسے پُر خطر زمانہ کے لئے جس میں عام طور پر زمین میں بہت جوش مخالفت کا پھوٹ پڑا ہے اور مسلمانوں کی اندرونی زندگی بھی نا گفتہ بہ حالت تک پہونچ گئی ہے۔کوئی مصلح صلیبی فتنوں کا فروکر نے والا اور اندرونی حالت کو پاک کرنے والا پیدا ہو۔اور تیرھویں صدی کے پورے سو برس کے تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ ان زہریلی ہواؤں کی اصلاح جو بڑے زور شور سے چل رہی ہیں اور عام وباء کی طرح ہر ایک شہر اور گانو سے کچھ کچھ اپنے قبض میں لا رہی ہیں۔ہر ایک معمولی طاقت کا کام نہیں کیونکہ یہ مخالفانہ تاثیرات اور ذخیرہ اعتراضات خود ایک معمولی طاقت نہیں بلکہ زمین نے اپنے وقت پر ایک جوش مارا ہے اور اپنے تمام زہروں کو بڑی قوت کے ساتھ اگلا ہے اس لئے اس زہر کی مدافعت کے لئے آسمانی طاقت کی ضرورت ہے کیونکہ لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے سو اس دلیل سے روشن ہو گیا کہ یہی زمانہ مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے۔(۲) دوسری دلیل وہ بعض احادیث اور کشوف اولیاء کرام و علمائے عظام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی معہود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔چنانچہ حدیث الْآيَاتُ بَعْدَ الْمِاتَيْنِ کی تشریح بہت سے متقدمین اور متاخرین نے یہی کی ہے جو ماتین کے لفظ سے وہ ماتین مراد ہیں جو الف کے بعد ہیں یعنی ہزار کے بعد۔اس طرح پر معنے اس حدیث کے یہ ہوئے کہ مہدی اور مسیح کی پیدائش جو آیات کبری میں سے ہے تیرھویں صدی میں ہوگی۔اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہو گا۔یہی معنے محققین علماء نے کئے ہیں اور انہی قرائن سے انہوں نے حکم کیا ہے کہ مہدی معہود کا تیرھویں صدی میں پیدا ہو جانا ضروری ہے تا چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو سکے۔چنانچہ اسی بناء پر اور نیز کئی اور قرائن کے رو سے بھی مولوی نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم اپنی کتاب حجج الکرامہ میں لکھتے ہیں