حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 118

۱۱۸ تھے اور معجزات اور پیشگوئیوں سے انکار تھا ایسے وقت میں پادریوں کے مقابل پر کون کھڑا ہوا؟ کس کی تائید میں خدا تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزے دکھلائے؟ کتاب تریاق القلوب کو پڑھو اور پھر انصاف سے کہو کہ اگر چہ صد ہا با تیں قصوں کے رنگ میں بیان کی جاتی ہیں مگر یہ نشان اور پیشگوئیاں جو رؤیت کی شہادت سے ثابت ہیں جن کے بچشم خود دیکھنے والے اب تک لاکھوں انسان دنیا میں موجود ہیں یہ کس سے ظہور میں آئے۔کون ہے جو ہر ایک نئی صبح کو مخالفین کو ملزم کر رہا ہے کہ آؤ! اگر تم میں روح القدس سے کچھ قوت ہے تو میرا مقابلہ کرو؟ عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں میں کون ہے جو اس وقت میرے سامنے کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا؟ سو یہ خدا کی حجت ہے جو پوری ہوئی۔سچائی سے انکار کرنا طریق دیانت اور ایمان نہیں ہے۔بلاشبہ ہر ایک قوم پر اللہ کی حجت پوری ہو گئی ہے۔آسمان کے نیچے اب کوئی نہیں کہ جوڑوح القدس کی تائید میں میرا مقابلہ کر سکے۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۱۴۸ تا ۱۵۰) منجملہ ان دلائل کے جو میرے مسیح موعود ہونے پر دلالت کرتے ہیں وہ ذاتی نشانیاں ہیں جو مسیح موعود کی نسبت بیان فرمائی گئی ہیں اور اُن میں سے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ مسیح موعود کے لئے ضروری ہے کہ وہ آخری زمانہ میں پیدا ہو جیسا کہ یہ حدیث ہے يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ عِنْدَ تَظَاهُرٍ مِّنَ الْفِتَنِ وَ انْقِطَاعِ مِّنَ الزَّمَنِ اور اس بات کے ثبوت کے لئے کہ در حقیقت یہ آخری زمانہ ہے جس میں مسیح ظاہر ہو جانا چاہئے دوطور کے دلائل موجود ہیں۔(۱) اول وہ آیات قرآنیہ اور آثار نبو یہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے ہیں جیسا کہ خسوف کسوف کا ایک ہی مہینہ میں یعنی رمضان میں ہونا جس کی تصریح آیت وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُے میں کی گئی ہے اور اونٹوں کی سواری کا موقوف ہو جانا جس کی تشریح آیت وَإِذَا الْعِشَارُ عَلَتْ سے ظاہر ہے اور ملک میں نہروں کا بکثرت نکلنا جیسا کہ آیت وَإِذَا الْبِحَارُ فَجَرَتْ " سے ظاہر ہے اور ستاروں کا متواتر ٹوٹنا جیسا کہ آیت وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَت کے سے ظاہر ہے اور قحط پڑنا اور وباء پڑنا اور امساک باراں ہونا جیسا کہ آیت وَإِذَا السَّمَاءِ انْفَطَرَتْ سے منکشف ہے اور سخت قسم کا کسوف شمس واقع ہونا جس سے تاریکی پھیل جائے جیسا کہ آیت اِذَا الشَّمْسُ كُوّرَتْ سے ظاہر ہے اور پہاڑوں کو اپنی جگہ سے اٹھا دینا وہ آخری زمانہ میں جبکہ دنیا کی انتہا ہونے والی ہوگی اور فتنے برپا ہور ہے ہوں گے ظاہر ہوگا۔القيامة : ١٠ ل التكوير : ۵ ۳ الانفطار ۴ ۴ الانفطار ۳ ۵ الانفطار : ٢ ٦ التكوير : ٢