مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 77
،، کے واسطے کہا مگر میں نے اس خیال سے کہ ہمارا اصل ارادہ اب رامپور کا ہو چکا ہے۔وہاں ٹھہرنا پسند نہ کیا۔میں مولوی نور الحسن کے لئے دعا کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے بہت ہی محبت واخلاص سے فرمایا جو فرمایا سفر بلار ئیس کے بہتر نہیں۔خدا جانے مسلمانوں نے کیوں اس کی پروا کم کر دی ہے۔ہم رامپور کی ایک ایسی ویران مسجد میں جو کچھ بڑی نہ تھی۔تینوں جا ٹھرے۔جب کھانے کا وقت آیا تو ایک لڑکی ہم تین آدمیوں کی روٹیاں لائی۔اس لڑکی کی عمر غالبا سات آٹھ سال کے درمیان تھی۔کھانا کھا کر ہم شہر میں علماء کی جستجو میں پھرتے رہے۔شام کا وقت آیا تو اسی لڑکی نے پھر کھا نالا کر دیا۔دوسرے دن دوپہر کو بدستور لائی اور شام کو بھی۔پھر تیسرے دن ادھر روٹی دی ادھر یہ کہا کہ میری اماں کہتی ہے کہ آپ دعا کریں کہ میرا خاوند میری طرف توجہ کرے۔میں اس کے خاوند کا نام جانتا ہوں۔میں اس کے خاوند کے پاس پہنچا اور بقدر اپنی اس طاقت کے جو مجھ کو حاصل تھی۔اس کو خوب وعظ کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنی بیوی کو رعایت سے بلایا اور مجھ کو جناب الہی کے حضور شکر کا موقع ملا۔اسی دن شام کے قریب میں اکیلا پنجابیوں کے محلہ کی ایک گلی میں ہو کر گزرا۔وہاں ایک مختص حافظ عبد الحق راستہ میں مجھ کو ملے۔انہوں نے فرمایا کہ آپ میری مسجد میں آکر رہیں۔میں نے کہا میں اکیلا نہیں ہوں ہم تین آدمی ہیں۔انہوں نے تینوں کی ذمہ داری اٹھائی۔تب میں نے کہا کہ ہم پڑھنے کے لئے آئے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ہم لوگوں کے گھر میں روٹیاں مانگتے پھریں۔انہوں نے کہا ایسا نہ ہو گا۔پھر میں نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ آپ محلہ کے لڑکے ہمارے سپرد کر دیں۔انہوں نے کہا یہ بھی نہ ہو گا۔پھر میں نے کہا کہ ہم کو کتابوں اور استادوں کی فکر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں مدد دونگا۔فجزاه الله خيرا۔انہوں نے ایک سال اپنے اس معاہدہ پر بڑی عمدگی سے گزارا - رحمه الله تعالی بلکہ جن دنوں میں دوبارہ ایک سال حکیم علی حسین صاحب کی خدمت میں رہا تو ان دنوں میں بھی حافظ عبد الحق صاحب اور اس محلہ کے لوگ میرے ساتھ بدستور مروت کرتے رہے۔میں ان کے اور ان کی اولاد کے لئے دعا کرتا ہوں۔ابتدائے درود رامپور میں مجھے یہ فکر تھی کہ میرا پچھلا پڑھا