مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 78
۷۸ ہوا آیا یہاں آکر مفید ہو گا یا نہ ہو گا اور اب مجھے کہاں سے شروع کرنا چاہے۔اس لئے میں فکر مندہی رہتا تھا۔جو صاحب ہمیں ترغیب دے کر لائے تھے وہ تو اس بیکاری سے تنگ آکر رامپور چھوڑ کر خلاف وعدہ چلے گئے۔اور تعجب ہے کہ ہم سے انہوں نے پوچھا بھی نہیں۔اس لئے ہم دو ہی رہ گئے۔ان دنوں میں میں طالب علموں میں پھرا کر تا تھا۔اتفاقاً ایک دن دیکھتا ہوں کہ بہت سے طالب علم ایک جگہ آپس میں مباحثہ کر رہے ہیں۔جس سوال پر جھگڑا تھا۔میں نے اس پر بہت غور کیا تو ایک ایسا جواب میرے خیال میں آیا جس کو میں یقینا کافی جواب سمجھتا تھا۔وہ سوال اور جواب دل میں رکھ کر میں نے سوچا کہ اگر آج ہم اس سوال اور جواب میں جیت گئے تو اس وقت کا پڑھا بابرکت ثابت ہو گیا۔نہیں تو ہمیں اب کیا ڈر ہے۔انہیں میں سے جو لائق طالب علم ہے اس کو استادی کے لئے پسند کرلیں گے۔میں نے بلند آواز سے کہا۔میں اس سوال کا جواب دیتا ہوں۔اس پر بہت سے طالب علموں نے نفسی اڑائی مگر پنجابی طالب علم میرے طرف دار ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ پہلے امتحان لیا جائے کہ اس نے سوال کو سمجھا ہے یا نہیں۔اگر سوال سمجھا ہے تو اس کے جواب کو توجہ اور قدر سے بنا جائے کیونکہ مباحثہ تو ہو ہی رہا ہے۔اس پر وہ مباحثہ کسی قدر ٹھنڈا ہوا۔میں نے کہا کہ کوئی بڑا نحوی حکم مقرر کرو۔ایک بزرگ مولوی غلام نبی صاحب کو سب نے تسلیم کیا کہ وہ نحو کے پورے ماہر ہیں۔ہم سب اٹھے اور ان کی خدمت میں چلے گئے۔میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر وہی بڑے عالم ہیں تو انہیں کو استاد بنالیں گے۔مولوی غلام نبی صاحب نہایت خوبصورت سفید ریش باد قار آدمی تھے۔میں نے دیکھا کہ انہوں نے کچھ حقارت کے لہجے میں فرمایا کہ تم لوگ کس طرح آئے۔میں نے بڑھ کر کہا کہ ایک سوال ہے اور اس کا جواب ہے۔آپ کو حکم بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے بیٹھنے کی اجازت دی۔وہ سوال اور اس کا جواب مجھے سے سن کر کہا کہ مولوی جی ( مجھ کو اس وقت اپنے متعلق ”مولوی جی" سننے سے بھی بہت خوشی ہوئی کہ میرا پچھلا پڑھا ہوا ضائع نہیں ہوا۔حالانکہ میں نے شرح جامی نہیں پڑھی تھی۔الفیہ اس کے بدلہ میں پڑھا تھا، یہ سوال عبد الرحمن میں جو جامی کا حاشیہ ہے لکھا ہے