مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 76
مخالفت کے لئے اپنے شاگردوں کو امتحانا بھیجا کرتے تھے اور وہ فارسی کی معمولی باتوں کو نہایت عظمت کی نگاہ سے دیکھ کر مجھ سے پوچھتے تھے اور میں خوش ہو تا تھا۔عربی کی تعلیم میرے بھائی صاحب نے میری ہیڈ ماسٹری کے وقت پھر شروع کرادی اور میں الفیہ اور منطق کے رسائل اور شرح عقائد وہاں پڑھ چکا تھا۔لیکن آخر چار برس کے بعد وہ نوکری کا تعلق خدا تعالیٰ کے محض فضل سے ٹوٹا اور میرے والد صاحب نے مجھ کو تعلیم عربی کی تکمیل کے لئے تاکید فرمائی۔مولوی احمد الدین صاحب جو بگے والے قاضی صاحب کے نام سے مشہور تھے ، میرے استاد ہوئے۔وہ میرے بھائیوں کے بھی استاد تھے۔مگر ان کو جامع مسجد کے بنانے کے لئے ایسی فکر لگی ہوئی تھی کہ ایک جگہ ٹھرنا ان کے لئے محال تھا۔میں ایک سال ان کے ہمراہ سفر اور حضر میں رہا اور عربی زبان کی معمولی درسی کتابیں نہایت تکلیف سے پڑھیں اور تنگ آکر اپنے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب سے کہا۔وہ مجھے لاہور میں لائے اور حکیم محمد بخش اور چند اور اساتذہ کے سپرد کر کے بھیرہ تشریف لے گئے۔یہاں اب ہمارا مطبع کا تعلق کوئی نہ تھا۔بھائی صاحب کے جاتے ہی ایک طالب علم کی ترغیب سے ہندوستان کو چلا گیا اور بمقام رامپور روہیل کھنڈ پڑھنا اختیار کیا۔رام پور اور لکھنؤ بـ ہم تین آدمی تھے۔ایک کا نام مولوی محمد مصطفیٰ تھا۔ایک مولوی علاء الدین اور ایک میں خود تھا۔ہم نے سفر میں پہلے یہ تجویز سوچی کہ ایک کو امیر بنانا چاہئے اور سفر کے اصل مقصد کو مد نظر رکھ کر باقیوں کو اس کی رائے کی پابندی اور فرمانبرداری چاہئے۔یہ قرار پایا کہ ایک شہر میں تین برس تک رہیں۔(کیونکہ عربی علوم پڑھنے کے لئے یہ مدت کافی سے بھی زیادہ تھی۔) اور ایسے شہر میں رہیں جس میں صرف دو تین عالم نہیں بلکہ بہت زیادہ عالم ہوں تا کہ مختلف علوم میں کافی اور بآسانی آگاہی حاصل ہو سکے۔کاندھلہ رستہ میں پڑا۔جب وہاں پہنچے تو مولوی نورالحسن ایک پاک صورت معمور الاوقات مجھے ملے۔انہوں نے مجھ سے رہنے