مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 35
۳۵ ہمارے اصولوں سے یہ مخالف ہے۔ہمارا یہی اصول ہے کہ مردوں کو زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی عادت نہیں اور وہ آپ فرماتا ہے۔حَرَام عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ یعنی ہم نے یہ واجب کر دیا ہے کہ جو مر گئے پھر وہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔میں نے ڈاکٹر صاحب کو یہ کہا تھا کہ آسمانی نشان کی اپنی طرف سے کوئی تعیین ضروری نہیں بلکہ جو امر انسانی طاقتوں سے بالا تر ثابت ہو خواہ کوئی امر ہو۔اسی کو آسمانی نشان سمجھ لینا چاہئے اور اگر اس میں شک ہو تو بالمقابل ایسا ہی کوئی دوسرا امر دکھلا کر یہ ثبوت دینا چاہئے کہ وہ امرالہی قدرتوں سے مخصوص نہیں۔لیکن ڈاکٹر صاحب اس سے کنارہ کر گئے اور مولوی صاحب نے وہ صدق قدم دکھلایا جو مولوی صاحب کی عظمت ایمان پر ایک محکم دلیل ہے۔دل میں از بس آرزو ہے کہ اور لوگ بھی مولوی صاحب کے نمونہ پر چلیں۔مولوی صاحب پہلے راستبازوں کا ایک نمونہ ہیں۔جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ وَاحْسَنَ الَيْهِمْ فِي الدُّنْيَا وَالْعُقْبَى۔(ازالہ اوہام صفحہ ۷۷۷ تا ۷۸۱ ۱۰ جب سے میں خداتعالی کی درگاہ سے مامور کیا گیا ہوں اور حی و قیوم کی طرف سے زندہ کیا گیا ہوں۔دین کے چیدہ مددگاروں کی طرف شوق کرتا رہا ہوں اور وہ شوق اس شوق سے بڑھ کر ہے جو ایک پیاسے کو پانی کی طرف ہوتا ہے۔اور میں رات دن خدا تعالیٰ کے حضور چلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اے میرے رب! میرا کون ناصر و مددگار ہے۔میں تنہا اور ذلیل ہوں۔پس جبکہ دعا کا ہاتھ پے در پے اٹھا اور آسمان کی فضا میری دعا سے بھر گئی تو اللہ تعالٰی نے میری عاجزی اور دعا کو قبول کیا اور رب العالمین کی رحمت نے جوش مارا اور اللہ تعالٰی نے مجھے ایک مخلص صدیق عطا فرمایا جو میرے مددگاروں کی آنکھ ا روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحه ۵۲۰ ۵۲۲۲