مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 36 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 36

ہے اور میرے ان مخلص دوستوں کا خلاصہ ہے جو دین کے بارہ میں میرے دوست ہیں۔اس کا نام اس کی نورانی صفات کی طرف نور الدین ہے۔وہ جائے ولادت کے لحاظ سے بھیروی اور نسبت کے لحاظ سے ہاشمی ہے جو کہ اسلام کے سرداروں میں سے اور شریف والدین کی اولاد میں سے ہے پس مجھ کو اس کے ملنے سے ایسی خوشی ہوئی کہ گویا کوئی جدا شدہ عضو مل گیا اور ایسا سرور ہوا جس طرح کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ملنے سے خوش ہوئے تھے۔اور میں اپنے غموں کو بھول گیا جب سے کہ وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے ملا۔اور میں نے دین کی نصرت کی راہوں میں اس کو سابقین میں سے پایا اور مجھ کو کسی شخص کے مال نے اس قدر نفع نہیں پہنچایا جس قدر کہ اس کے مال نے جو کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے دیا اور کئی سال سے دیتا ہے۔وہ علم و فضل اور نیکی و سخاوت میں اپنے ہم چشموں پر فوقیت لے گیا ہے اور باوجود اس کے اس کا حلم کوہ رضوی سے زیادہ مضبوط ہے۔اس نے اپنا تمام چیدہ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا ہے اور اپنی تمام خوشی خدا تعالیٰ کے کلام میں رکھی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ سخاوت اس کی عبادت ہے اور علم اس کی غذا ہے اور حلم اس کی سیرت ہے اور تو کل اس کی قوت اور میں نے اس کی مانند جہان میں کوئی عالم نہیں دیکھا اور منعمین میں ہو کر اس کی مانند مخلوق میں فقیر نہیں اور نہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کی مانند کوئی خرچ کرنے والا دیکھا۔میں نے جب عقل و سمجھ پائی ہے اس کی مانند کوئی وسیع علم والا نہیں دیکھا اور وہ جب میرے پاس آیا اور مجھ سے ملا اور میری نظر اس پر پڑی تو میں نے اس کو دیکھا کہ وہ میرے رب کی آیات میں سے ایک آیت ہے اور مجھے ނ