مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 34 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 34

سلام سلام ہونے کو تھیں اور بہتیروں نے باوجود بیعت کے عہد بیعت فسخ کر دیا تھا اور بہتیرے ست اور متذبذب ہو گئے تھے۔تب سب سے پہلے مولوی صاحب ممدوح کا ہی خط اس عاجز کے اس دعویٰ کی تصدیق میں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں، قادیان میں میرے پاس پہنچا۔جس میں یہ فقرات درج تھے۔امَنَّا وَ صَدَقْنَا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ۔مولوی صاحب موصوف کے اعتقاد اور اعلیٰ درجہ کی قوت ایمانی کا ایک یہ بھی نمونہ ہے کہ ریاست جموں کے ایک جلسہ میں مولوی صاحب موصوف کا ایک ڈاکٹر صاحب سے جن کا نام جگن ناتھ ہے اس عاجز کی نسبت کچھ تذکرہ ہوا۔مولوی صاحب نے بڑی قوت اور استقامت سے یہ دعوئی پیش کیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کے یعنی اس عاجز کے ہاتھ پر کوئی آسمانی نشان دکھلانے پر قادر ہے۔پھر ڈاکٹر صاحب کے انکار پر مولوی صاحب نے ریاست کے بڑے بڑے ارکان کی مجلس میں یہ شرط قبول کی کہ اگر وہ یعنی یہ عاجز کسی مدت مسلمہ فریقین پر کوئی آسمانی نشان دکھلا نہ سکے تو مولوی صاحب ڈاکٹر صاحب کو پانچ ہزار روپیہ بطور جرمانہ دیں گے اور ڈاکٹر صاحب کی طرف سے یہ شرط ہوگی کہ اگر انہوں نے کوئی نشان دیکھ لیا تو بلا توقف مسلمان ہو جائیں گے اور ان تحریری اقراروں پر مندرجہ ذیل گواہیاں ثبت ہو ئیں۔خان بهادر جنرل ممبر کو نسل ریاست جموں۔غلام محی الدین خاں۔سراج الدین احمد سپرنٹنڈنٹ و افسر ڈاک خانہ جات ریاست جموں۔سر کار سنگھ سیکرٹری راجہ امر سنگھ صاحب بہادر پریذیڈنٹ کو نسل۔مگر افسوس کہ ڈاکٹر صاحب ناقابل قبول اعجازی صورتوں کو پیش کر کے ایک حکمت عملی سے گریز کر گئے چنانچہ انہوں نے ایک آسمانی نشان یہ مانگا کہ کوئی مرا ہوا پرندہ زندہ کر دیا جائے حالانکہ وہ خوب جانتے ہوں گے کہ