مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 33
٣٣ "میرے ایک مخلص دوست مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی جو نو تعلیم یافتہ جوان اور تربیت جدیدہ کے رنگ سے رنگین اور نازک خیال آدمی ہیں جن کے دل پر میرے محب صادق اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب کی مربیانہ اور استادانہ صحبت کا نہایت عمدہ بلکہ خارق عادت اثر پڑا ہوا ہے۔" (ازالہ اوہام صفحه ۳۴ مطبوعہ ریاض ہند پریس) " حتی فی اللہ مولوی حکیم نوردین صاحب بھیروی۔مولوی صاحب ممدوح کا حال کسی قدر رسالہ فتح اسلام میں لکھ آیا ہوں۔لیکن ان کی تازہ ہمدردیوں نے پھر مجھے اس وقت ذکر کرنے کا موقع دیا۔ان کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے۔میں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔میں نے ان کو طبعی طور پر اور نہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جان نثار پایا۔اگر چہ ان کی روز مرہ زندگی اسی راہ میں وقف ہے کہ وہ ہریک پہلو سے اسلام اور مسلمانوں کے بچے خادم ہیں مگر اس سلسلہ کے ناصرین میں سے وہ اول درجہ کے نکلے۔مولوی صاحب موصوف اگر چہ اپنی فیاضی کی وجہ سے اس مصرعہ کے مصداق ہیں کہ قرار در کف آزادگاں نگیرد مال۔لیکن پھر بھی انہوں نے بارہ سو روپیہ نقد متفرق حاجتوں کے وقت اس سلسلہ کی تائید میں دیا اور اب میں روپیہ ماہواری دینا اپنے نفس پر واجب کر دیا اور اس کے سوا اور بھی ان کی مالی خدمات ہیں جو طرح طرح کے رنگوں میں ان کا سلسلہ جاری ہے۔میں یقینا دیکھتا ہوں کہ جب تک وہ نسبت پیدا نہ ہو جو محب کو اپنے محبوب سے ہوتی ہے تب تک ایسا انشراح صدر کسی میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ان کو خدا تعالٰی نے اپنے قوی ہاتھ سے اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور طاقت بالا نے خارق عادت اثر ان پر کیا ہے۔انہوں نے ایسے وقت میں بلا تردد مجھے قبول کیا کہ جب ہر طرف سے تکفیر کی صدائیں بلند روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحه ۱۱۹