مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 32 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 32

اور مستی سے ان کی طاقت سے زیادہ قدم بڑھانے کی تعلیم دے رہی ہے اور ہر دم اور ہر آن خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔لیکن یہ نہایت درجہ کی بے رحمی ہے کہ ایسے جان نثار پر وہ سارے فوق العادت بوجھ ڈال دیئے جائیں جن کو اٹھانا ایک گروہ کا کام ہے۔بے شک مولوی صاحب اس خدمت کو بہم پہنچانے کے لئے تمام جائداد سے دست بردار ہو جانا اور ایوب نبی کی طرح یہ کہتا کہ میں اکیلا آیا اور اکیلا جاؤں گا" قبول کرلیں گے۔لیکن یہ فریضہ تمام قوم میں مشترک ہے اور سب پر لازم ہے کہ اس پُر خطر اور پر فتنہ زمانہ میں کہ جو ایمان کے ایک نازک رشتہ کو جو خدا اور اس کے بندے میں ہونا چاہئے بڑے زور شور کے ساتھ جھٹکے دے کر ہلا رہا ہے۔اپنے اپنے حسن خاتمہ کی فکر کریں اور وہ اعمال صالحہ جن پر نجات کا انحصار ہے اپنے پیارے مالوں کو فدا کرنے اور پیارے وقتوں کو خدمت میں لگانے سے حاصل کریں اور خدا تعالیٰ کے اس غیر متبدل اور مستحکم قانون سے ڈریں جو وہ اپنے کلام عزیز میں فرماتا ہے۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔یعنی تم حقیقی نیکی کو جو نجات تک پہنچاتی ہے ہر گز پا نہیں سکتے بجز اس کے کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ مال اور وہ چیزیں خرچ کرو جو تمہاری پیاری ہیں۔" افتح اسلام صفحه ۶۰ تا صفحه ۶۵ ایڈیشن سوم ) ) حضرت مولوی صاحب علوم فقہ اور احادیث و تفسیر میں اعلیٰ درجہ کے معلومات رکھتے ہیں۔فلسفہ اور طبعی قدیم اور جدید پر نہایت عمدہ نظر ہے۔فن طبابت میں ایک حاذق طبیب ہیں۔ہر ایک فن کی کتابیں بلاد مصر و عرب و شام و یورپ سے منگوا کر ایک نادر کتب خانہ تیار کیا ہے اور جیسے اور علوم میں فاضل جلیل ہیں مناظرات دینیه میں بھی نہایت درجہ نظر و سیع رکھتے ہیں۔بہت سی عمدہ کتابوں کے مؤلف ہیں۔حال میں کتاب تصدیق براہین احمدیہ بھی حضرت ممدوح نے ہی تالیف فرمائی ہے جو ہر ایک محققانہ طبیعت کے آدمی کی نگاہ میں جواہرات سے بھی زیادہ بیش قیمت ہے۔۲۰ روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحه ۳۵ تا ۳۸