مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 31 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 31

" مولانا - مرشد نا - امامنا۔عالی جناب ! I ٣١ السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمان سے، جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا ہے، وہ مطالب حاصل کروں۔اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفیٰ دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دوں۔میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے ، میرا نہیں ، آپ کا ہے۔حضرت پیر و مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنی خدمت بجالاؤں کہ ان کی تمام قیمت ادا کردہ اپنے پاس سے واپس کردوں۔حضرت پیر و مرشد ! تابکار شرمسار عرض کرتا ہے۔اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے۔میرا منشاء ہے کہ براہین کے طبع کا تمام خرچ مجھ پر ڈال دیا جائے پھر جو کچھ قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو۔مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے تیار ہوں۔دعا فرما دیں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔" مولوی صاحب ممدوح کا صدق اور ہمت اور ان کی غمخواری اور جان شاری جیسے ان کے قال سے ظاہر ہے اس سے بڑھ کر ان کے حال سے ان کی مخلصانہ خدمتوں سے ظاہر ہو رہا ہے اور وہ محبت اور اخلاص کے جذبہ کاملہ سے چاہتے ہیں کہ سب کچھ یہاں تک کہ اپنے عیال کی زندگی بسر کرنے کی ضروری چیزیں بھی اسی راہ میں فدا کر دیں۔ان کی روح محبت کے جوش