مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 305
۳۰۵ اور حضرت مسیح موعود سے اس غرض کے واسطے نواب صاحب کے آدمیوں نے اجازت حاصل کی۔کچھ دن نواب صاحب کا علاج کر کے آپ واپس آگئے۔(۳) حضرت نواب محمد علی خان صاحب احمدی رئیس مالیر کوٹلہ کی درخواست پر حضرت مسیح موعود نے درس قرآن و حدیث دینے کے واسطے مالیر کوٹلہ بھیجا اور ایک سال سے کچھ زائد عرصہ آپ کا وہاں قیام رہا۔(۴) آریاؤں کے ایک جلسہ میں حضرت مسیح موعود کا ایک مضمون پڑھنے کے واسطے آپ لاہور تشریف لے گئے۔یہ وہی مضمون ہے۔جو کتاب چشمہ معرفت میں ہے۔(۵) زمانہ خلافت میں ایک دفعہ آپ کو ایک مقدمہ کی شہادت کے واسطے ملتان جانا پڑا۔وہاں سے واپسی پر لاہور میں آپ کا لیکچر ہوا۔(۲) شیخ رحمت اللہ صاحب احمدی مرحوم کے مکان اور دکان کی بنیادی اینٹ رکھنے کے واسطے آپ لاہور تشریف لے گئے۔جب حضرت مسیح موعود ۱۹۰۵ء میں دہلی تشریف لے گئے تھے تو حضرت مولانا کو بھی چند روز بعد وہاں بلا لیا تھا۔اسی طرح اس سفر میں بھی لاہور ہمراہ تھے جس سفر میں حضور علیہ السلام نے وفات پائی۔عهد خلافت قادیان میں آپ کی زندگی کا دوسرا دور حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد شروع ہوا جبکہ اللہ تعالیٰ نے تمام جماعت کے دل میں یہ بات ڈالی کہ اب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک خلیفہ ہونا چاہئے جو حضرت مسیح موعود کا جانشین ہو کر تمام جماعت کا امام مطاع ہو۔سب کی نگاہیں حضرت مولوی نور الدین صاحب کی طرف تھیں کہ وہی مسند خلافت کے اہل ہیں اور انہیں سے درخواست کرنی چاہیے کہ وہ اس عہدہ کو قبول فرما دیں۔پس خواجہ کمال الدین صاحب اور دیگر اصحاب حضرت ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے